کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا بسر بن ابی ارطاۃ قرشی رضی اللہ عنہ، اور ابی ارطاۃ کا نام عمیر بن عویمر بن عمران بن حلبس بن سنان بن نزار بن معیص بن عامر بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ہے
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ حِينَ جَلَدَ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ سَرَقَا مِنْ غَنَائِمِ النَّاسِ: أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ قَطْعِهمَا إِلَّا بُسْرُ بْنُ أَرْطَاةَ وَجَدَ رَجُلًا يَسْرِقُ فِي الْغَزْوِ فَجَلَدَهُ، وَلَمْ يَقْطَعْ يَدَهُ وَقَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَطْعِ فِي الْغَزْوِ»
ترجمہ
…(فلاں نے) منبر پر، جب انہوں نے ان دو آدمیوں کو کوڑے لگائے جنہوں نے لوگوں کے مالِ غنیمت میں سے چوری کی تھی، (کہا) کہ مجھے ان کا ہاتھ کاٹنے سے صرف اس بات نے روکا کہ سیدنا بُسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو غزوے میں چوری کرتے پایا تو اسے کوڑے لگائے اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا، اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں غزوے میں ہاتھ کاٹنے سے منع فرمایا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، سَمِعَ بُسْرَ بْنَ أَرْطَاةَ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ أَحْسِنْ عاقِبَتِي فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنِي مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْآخِرَةِ»
ترجمہ
محمد بن ایوب بن میسرہ بن حلبس بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے سیدنا بُسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! تمام معاملات میں میرا انجام اچھا فرما، اور مجھے دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عَلَّاقٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مَوْلًى لِآلِ بُسْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتِي فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، وَأَجِرْنِي مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْآخِرَةِ» ، وَقَالَ: «مَنْ كَانَ ذَلِكَ دُعَاءَهُ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهُ الْبَلَاءُ»
ترجمہ
آل بُسر کے ایک آزاد کردہ غلام سیدنا بُسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”اے اللہ! تمام معاملات میں میرا انجام اچھا فرما، اور مجھے دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا“ اور فرمایا: ”جس کی یہ دعا رہی وہ مصیبت آنے سے پہلے ہی وفات پا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السُّمَيْدِعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي شَيْبَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ، أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو: «اللهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ»
ترجمہ
بُسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام یزید روایت کرتے ہیں کہ سیدنا بُسر بن ابی ارطاۃ رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام اچھا فرما، اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔“