حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، أَهْدَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْيَهُودِيَّةُ وَهِي بِنْتُ أَخِي مَرْحَبٍ شَاةً مَصْلِيَّةً، وسَمَّتْهُ فِيهَا وَأَكْثَرَتْ فِي الْكَتِفِ، وَالذِّرَاعِ حِينَ أُخْبِرَتْ أَنَّهَا أَحَبُّ أَعْضَاءِ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ أَخُو بَنِي سَلِمَةَ، قَدَّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ الْكَتِفَ، وَالذِّرَاعَ فَانْتَهَسَ مِنْهَا، وَتَنَاوَلَ بِشْرُ عَظْمًا آخَرَ فَانْتَهَسَ مِنْهُ، فَلَمَّا أَدْغَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَدْغَمَ بِشْرٌ مَا فِي فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ كَتِفَ الشَّاةِ تُخْبِرُنِي، أَنْ قَدْ بُغِيَتْ فِيهَا» ، فَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ، لَقَدْ وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي أُكْلَتِي الَّتِي أَكَلْتُ، فَإِنْ مَنَعَنِي أَنْ أَلْفُظَها إِلَّا أَنِّي كَرِهْت أَنْ أُنَغِّصَ طَعَامَكَ، فَلَمَّا أَكَلْتَ مَا فِي فِيكَ لَمْ أَرْغَبْ بِنَفْسِي عَنْ نَفْسِكَ، وَرَجَوْتُ أَنْ لَا يَكُونَ أَدْغَمْتُها، وَفِيهَا بَغْيٌ، فَلَمْ يَقُمْ بِشْرٌ مِنْ مَكَانِهِ، حَتَّى عَادَ لَوْنُهُ كالطَّيْلَسانِ، وماطَلَهُ وَجَعُهُ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ مَا يَتَحَوَّلُ إِلَّا مَا حُوِّلَ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ ثَلَاثِ سِنِينَ حَتَّى كَانَ وَجَعُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ
ترجمہ

…اور دستی (کا گوشت) لے کر اس میں سے کاٹا، اور بشر رضی اللہ عنہ نے ایک اور ہڈی لے کر اس میں سے کاٹا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے منہ کا لقمہ نگل لیا تو بشر رضی اللہ عنہ نے بھی جو ان کے منہ میں تھا نگل لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو، کیونکہ بکری کا شانہ مجھے بتا رہا ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے“ تو بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی، میں نے یہ اپنے اس لقمے میں محسوس کیا جو میں نے کھایا، تو مجھے اسے تھوک دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں نے یہ ناپسند کیا کہ آپ کا کھانا خراب کر دوں، پھر جب آپ ﷺ نے وہ نگل لیا جو آپ کے منہ میں تھا تو میں نے بھی اپنے آپ کو آپ سے الگ نہ رکھا، اور مجھے امید تھی کہ جو میں نے نگلا ہے شاید اس میں زہر نہ ہو، تو بشر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے نہ اٹھے یہاں تک کہ ان کا رنگ چادر جیسا (زرد) ہو گیا، اور ان کی بیماری انہیں مسلسل ستاتی رہی یہاں تک کہ ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہ آئی سوائے اس کے کہ جو تبدیل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ وہی بیماری ہوئی جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1193
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 35، حدیث 1204