المعجم الكبير للطبراني
باب الباء— حرف با سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشر بن البراء بن معرور الأنصاري عقبي بدري باب: سیدنا بشر بن براء بن معرور انصاری رضی اللہ عنہ، عقبی و بدری صحابی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْهُمْ، أَهْدَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ الْحَارِثِ الْيَهُودِيَّةُ وَهِي بِنْتُ أَخِي مَرْحَبٍ شَاةً مَصْلِيَّةً، وسَمَّتْهُ فِيهَا وَأَكْثَرَتْ فِي الْكَتِفِ، وَالذِّرَاعِ حِينَ أُخْبِرَتْ أَنَّهَا أَحَبُّ أَعْضَاءِ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ أَخُو بَنِي سَلِمَةَ، قَدَّمَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَنَاوَلَ الْكَتِفَ، وَالذِّرَاعَ فَانْتَهَسَ مِنْهَا، وَتَنَاوَلَ بِشْرُ عَظْمًا آخَرَ فَانْتَهَسَ مِنْهُ، فَلَمَّا أَدْغَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَدْغَمَ بِشْرٌ مَا فِي فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ كَتِفَ الشَّاةِ تُخْبِرُنِي، أَنْ قَدْ بُغِيَتْ فِيهَا» ، فَقَالَ بِشْرُ بْنُ الْبَرَاءِ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ، لَقَدْ وَجَدْتُ ذَلِكَ فِي أُكْلَتِي الَّتِي أَكَلْتُ، فَإِنْ مَنَعَنِي أَنْ أَلْفُظَها إِلَّا أَنِّي كَرِهْت أَنْ أُنَغِّصَ طَعَامَكَ، فَلَمَّا أَكَلْتَ مَا فِي فِيكَ لَمْ أَرْغَبْ بِنَفْسِي عَنْ نَفْسِكَ، وَرَجَوْتُ أَنْ لَا يَكُونَ أَدْغَمْتُها، وَفِيهَا بَغْيٌ، فَلَمْ يَقُمْ بِشْرٌ مِنْ مَكَانِهِ، حَتَّى عَادَ لَوْنُهُ كالطَّيْلَسانِ، وماطَلَهُ وَجَعُهُ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ مَا يَتَحَوَّلُ إِلَّا مَا حُوِّلَ، وَبَقِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ ثَلَاثِ سِنِينَ حَتَّى كَانَ وَجَعُهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِعروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ کو خیبر فتح عطا فرمائی اور آپ ﷺ نے ان میں سے جسے قتل کرنا تھا قتل کیا، تو زینب بنت حارث یہودیہ، جو مرحب کی بھتیجی تھی، نے ایک بھنی ہوئی بکری تحفے میں بھیجی اور اس میں زہر ملا دیا، اور شانے اور بازو میں زیادہ زہر ملایا جب اسے بتایا گیا کہ یہ بکری کے سب سے پسندیدہ اعضاء ہیں رسول اللہ ﷺ کے نزدیک۔ جب رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سیدنا بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ، جو بنو سلمہ کے ایک فرد تھے، بھی تھے، تو اس نے وہ بکری رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کی، تو آپ ﷺ نے شانہ اور بازو کا گوشت لیا اور اس میں سے دانت سے نوچ کر کھایا، اور بشر رضی اللہ عنہ نے ایک اور ہڈی لے کر اس میں سے کاٹا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے منہ کا لقمہ نگل لیا تو بشر رضی اللہ عنہ نے بھی جو ان کے منہ میں تھا نگل لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ روک لو، کیونکہ بکری کا شانہ مجھے بتا رہا ہے کہ اس میں زہر ملایا گیا ہے“ تو بشر بن براء رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی، میں نے یہ اپنے اس لقمے میں محسوس کیا جو میں نے کھایا، تو مجھے اسے تھوک دینے سے صرف اس بات نے روکا کہ میں نے یہ ناپسند کیا کہ آپ کا کھانا خراب کر دوں، پھر جب آپ ﷺ نے وہ نگل لیا جو آپ کے منہ میں تھا تو میں نے بھی اپنے آپ کو آپ سے الگ نہ رکھا، اور مجھے امید تھی کہ جو میں نے نگلا ہے شاید اس میں زہر نہ ہو، تو بشر رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے نہ اٹھے یہاں تک کہ ان کا رنگ طیلسان (چادر) جیسا ہو گیا، اور ان کی تکلیف انہیں مسلسل ستاتی رہی یہاں تک کہ وہ خود کروٹ نہ بدل سکتے تھے مگر یہ کہ انہیں (دوسرے) پھیرتے، اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد تین سال زندہ رہے یہاں تک کہ وہی بیماری ہوئی جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی۔