کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا بسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ، اور بشر بھی کہا جاتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ يَزِيدَ الْحَوْطِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ الْقُرَشِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَقَ يَوْمًا عَلَى كَفِّهِ، فَوَضَعَ عَلَيْهَا إِصْبَعَهُ ثُمَّ قَالَ: " يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: لَنْ تُعْجِزَنِي، وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ حَتَّى إِذَا سَوَّيْتُكَ، وَعَدَّلْتُكَ، مَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ، وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ، وَئِيدٌ فَجَمَعْتَ وَصَنَعْتَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ، التَّرَاقِيَ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ؟ "
ترجمہ
سیدنا بُسر بن جحاش قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دن اپنی ہتھیلی پر تھوکا، پھر اپنی انگلی اس پر رکھی اور فرمایا: ”اے ابن آدم! اللہ عزوجل فرماتا ہے: تو مجھے عاجز نہیں کر سکتا، میں نے تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا، یہاں تک کہ جب میں نے تجھے برابر اور معتدل بنا دیا، تو تُو دو چادروں میں چلنے لگا، اور زمین تیرے قدموں سے دھمک لینے لگی، تو تُو نے مال جمع کیا اور بنایا، یہاں تک کہ جب روح ہنسلیوں تک پہنچی، تو تُو کہنے لگا: میں صدقہ کروں گا، اور اب صدقے کا وقت کہاں رہا؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1182
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 32، حدیث 1193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّحَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ جَحَّاشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْرَجَ يَدَهُ فَبَصَقَ فِيهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ يَقُولُ: كَيْفَ تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ، وَإِنَّما خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ، فَسَوَّيْتُكَ، وَعَدَّلْتُكَ، وَمَشَيْتَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ، وَلِلْأَرْضِ مِنْكَ وَئِيدٌ، فَجَمَعْتَ وَمَنَعْتَ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ، قُلْتَ: أَتَصَدَّقُ، الْآنَ وَأَنَّى أَوَانُ الصَّدَقَةِ؟ "
ترجمہ
سیدنا بُسر بن جحاش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ نکالا، اس میں تھوکا، پھر اسے دیکھا اور فرمایا: ”اللہ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے، جبکہ میں نے تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا، پھر تجھے برابر اور معتدل بنایا، تو تُو دو چادروں میں چلنے لگا، اور زمین تیرے قدموں سے دھمک لینے لگی، تو تُو نے مال جمع کیا اور روکا، یہاں تک کہ جب روح ہنسلیوں تک پہنچی، تو تُو کہنے لگا: اب صدقہ کروں گا، اور اب صدقے کا وقت کہاں رہا؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الباء / حدیث: 1183
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 32، حدیث 1194