کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا بنہ جہنی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ سے روایت
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ بُنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ فِي مَسْجِدٍ، سَلُّوا فِيهِ سَيْفًا فَهُمْ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ: «لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا، أَوَلَمْ أَنْهَكُمْ عَنْهُ؟ فَإِذَا سَلَّ أَحَدُكُمِ السَّيْفَ، فَلْيُغْمِدْهُ ثُمَّ لِيُعْطِيَهُ صَاحِبَهُ كَذَلِكَ»
حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَمْرٍو الْأُحْمُوسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «عَمُّورِيَّةُ كَلْبَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا تَهَارُّ دُونَهَا»
حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَمْرٍو الْأُحْمُوسِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ تُبَيْعٍ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «عَمُّورِيَّةُ كَلْبَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ، مِنْ أَجْلِ أَنَّهَا تَهَارُّ دُونَهَا»
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہیں بُنَّہ جہنی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی اللہ ﷺ ایک مسجد میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جنہوں نے اس میں تلوار میان سے نکالی ہوئی تھی اور وہ اسے آپس میں ایک دوسرے کو دے رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس پر لعنت کرے جو ایسا کرے، کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا؟ جب تم میں سے کوئی تلوار میان سے نکالے تو اسے میان میں کر لے، پھر اسی طرح اپنے ساتھی کو دے۔“
کعب (الاحبار) بیان کرتے ہیں: ”عمّوریہ قسطنطنیہ کی کتیا ہے، اس لیے کہ وہ اس کے آگے بھونکتی ہے۔“
کعب (الاحبار) بیان کرتے ہیں: ”عمّوریہ قسطنطنیہ کی کتیا ہے، اس لیے کہ وہ اس کے آگے بھونکتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح، وثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ فَضَالَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ مَعْدَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُسْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَاهُ بُسْرًا، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ» ، فَقَالَ: «إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَمْضَغَ لَحَى شَجَرَةٍ، فَلَا يَصُمْ يَوْمَئِذٍ» وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ: إِنْ شَكَكْتُمْ فَسَلُوا أُخْتِي، قَالَ: فَمَشَى إِلَيْهَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، فَسَأَلَهَا عَمَّا ذَكَرَ عَبْدُ اللهِ فَحَدَّثَتْهُ بِذَلِكَ
ترجمہ
زبیدی بیان کرتے ہیں، انہیں فضیل بن فضالہ نے بتایا کہ خالد بن معدان نے انہیں بتایا کہ عبداللہ بن بُسر نے انہیں بتایا کہ انہوں نے اپنے والد بُسر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے ہفتے کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کو کھانے کو درخت کی چھال چبانے کے سوا کچھ نہ ملے، تو بھی اس دن روزہ نہ رکھے“ اور عبداللہ بن بُسر نے کہا: اگر تمہیں شک ہو تو میری بہن سے پوچھ لو، تو خالد بن معدان ان کے پاس گئے، اور عبداللہ نے جو بیان کیا تھا اس کے بارے میں ان سے پوچھا، تو انہوں نے بھی یہی بیان کیا۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِيهِ بُسْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ، وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَةٍ، كُنَّا نَدْعُوها حِمَارَةً شَامِيَّةً، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَقَامَتْ أُمِّي، فَوَضَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةً عَلَى حَصِيرٍ فِي الْبَيْتِ، جَعَلَتْ تُؤْثِرُها لَهُ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَطَيْتُ بِالْحَصِيرِ، قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ: فَقَدَّمَ لَهُمْ بُسْرٌ أَبِي تَمْرًا لِيَشْغَلَهُمْ بِهِ، وَأَمَرَ أُمِّي فَصَنَعَتْ لَهُمْ جَشِيشًا، قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فِيمَا بَيْنَ أَبِي وَأُمِّي، وَكَانَ أَبِي الْقَائِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا فَرَغَتْ أُمِّي مِنَ الْجَشِيشِ جِئْتُ أَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعْتُهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَأَكَلُوا، ثُمَّ سَقَاهُمْ فَضِيخًا فَشَرِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَقَى الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ أَخَذْتُ الْقَدَحَ حَتَّى نَفِدَ مَا فِيهِ، فَمَلَأْتُ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَعْطِهِ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ الْقَدَحُ» ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الطَّعَامِ، دَعَا لَنَا، فَقَالَ: «اللهُمَّ ارْحَمْهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهُمْ» ، فَمَا زِلْنَا نَتَعَرَّفُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، السَّعَةَ فِي الرِّزْقِ
ترجمہ
…اور جو اس کے دائیں جانب تھا اسے پلایا، پھر میں نے پیالہ لیا یہاں تک کہ جو اس میں تھا ختم ہو گیا، تو میں نے اسے بھرا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اسے دو جہاں تک پیالہ پہنچا ہے“ پھر جب رسول اللہ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو ہمارے لیے دعا کی اور فرمایا: ”اے اللہ! ان پر رحم فرما، انہیں بخش دے، اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما“ تو ہم برابر اللہ عزوجل کی طرف سے رزق میں کشادگی محسوس کرتے رہے۔