حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرِّيُّ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ تَمَّامٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: حَمَلُ بْنُ مَالِكٍ، لَهُ امْرَأَتَانِ إِحْدَاهُمَا هُذَلَيَّةٌ، وَالْأُخْرَى عَامِرَيَّةٌ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ بَطْنَ الْعَامِرِيَّةِ بِعَمُودِ خِبَاءٍ - أَوْ فُسْطَاطٍ - فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا أَخٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ: عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ، فَلَمَّا قَصُّوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَّةَ قَالَ: «دُوهُ» . فَقَالَ عِمْرَانُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَنَدِي مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ مِثْلُ هَذَا يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْنِي مِنْ رِجْزِ الْأَعْرَابِ، فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ خَمْسُمِائَةٍ أَوْ فَرَسٌ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِئَةُ شَاةٍ " فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ، وَهُمْ أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ، قَالَ: «أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا» . قَالَ: مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ. قَالَ: «يَا حَمَلُ بْنَ مَالِكٍ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ، وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَتَيْنِ، وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ - اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِئَةَ شَاةٍ» فَفَعَلَ
ترجمہ

…پھر ماردینے والی عورت کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے جایا گیا، اور اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا جسے عمران بن عویمر کہا جاتا تھا، جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پورا واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے (دیت) دو۔“ عمران نے کہا: یا نبی اللہ! کیا میں اس (بچے) کی دیت دوں جس نے نہ کھایا نہ پیا نہ چلایا نہ چیخا؟ ایسے (بچے کی موت) تو رائیگاں جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے بدووں کی سجع بازی سے بچا، اس میں غرہ (لازم) ہے: ایک غلام یا لونڈی، یا پانچ سو (درہم)، یا ایک گھوڑا، یا ایک سو بیس بکریاں۔“ اس نے کہا: یا نبی اللہ! اس (مقتولہ) کے دو بیٹے ہیں جو قبیلے کے سردار ہیں، وہی اپنی ماں کی طرف سے دیت ادا کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرنے کے اس کے بیٹوں سے زیادہ حقدار ہو۔“ اس نے کہا: میرے پاس تو کچھ نہیں جس سے میں دیت ادا کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حَمَل بن مالک - اور وہ اس وقت ہذیل (قبیلے) کے صدقات کے ذمہ دار تھے، اور وہ دونوں عورتوں کے شوہر اور مارے گئے بچے کے باپ تھے - ہذیل کے صدقات میں سے جو تمہارے پاس ہے اس میں سے ایک سو بیس بکریاں لے لو۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 511
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 193، حدیث 514