المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب فيما يقال عند الوسوسة باب: وسوسے کے وقت کیا کہا جائے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 509
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ الْقَطَّانُ، ثنا الْمُهَاجِرُ بْنُ الْمُنِيبِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ وَسْوَسَةً أَجِدُهَا فِي صَدْرِي، إِنِّي أَدْخُلُ فِي صَلَاتِي فَمَا أَدْرِي عَلَى شَفْعٍ أنْفَتِلُ، أَمْ عَلَى وِتْرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا وَجَدْتَ ذَلِكَ فَارْفَعْ إِصْبَعَكَ السَّبَّابَةَ الْيُمْنَى فَاطْعَنْهُ فِي فَخِذِكَ الْيُسْرَى، وَقُلْ: بِسْمِ اللهِ، فَإِنَّهَا سِكِّينُ الشَّيْطَانِ "ترجمہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ سے اس وسوسے کی شکایت کرتا ہوں جو میں اپنے سینے میں پاتا ہوں، میں اپنی نماز میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے نہیں پتا چلتا کہ میں جفت (رکعتوں) پر پھروں یا طاق پر۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تجھے یہ محسوس ہو تو اپنی دائیں شہادت کی انگلی اٹھا اور اسے اپنی بائیں ران میں چبھو دے، اور کہہ: ”بسم اللہ“، کیونکہ یہ شیطان کی چھری ہے۔“