المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب في الدية باب: دیت کا بیان
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَتْ فِيهَا امْرَأَتَانِ ضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا " فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَرْأَةِ بِالْعَقْلِ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ، أَوْ أَمَةٍ، أَوْ بِفَرَسٍ، أَوْ بَعِيرَيْنِ مِنَ الْإِبِلِ، أَوْ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ رَهْطِ الْقَاتِلَةِ: كَيْفَ نَعْقِلُ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ؟ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجَّاعَةٌ أَنْتَ؟» وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ»ابوالملیح کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا، اور وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے، وہ کہتے ہیں: (ہمارے قبیلے میں) دو عورتیں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو ایک لکڑی (خیمے کے کھمبے) سے مارا، جس سے وہ مر گئی اور اس کے پیٹ میں جو (بچہ) تھا وہ بھی مر گیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے (مقتولہ) عورت کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا، اور جنین کے لیے ایک غرہ (کا فیصلہ کیا): ایک غلام، یا لونڈی، یا ایک گھوڑا، یا اونٹوں میں سے دو اونٹ، یا اتنی اتنی بکریاں۔ تو قاتلہ عورت کے قبیلے میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! ہم اس (بچے) کی دیت کیسے ادا کریں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ چلایا اور نہ چیخا؟ ایسے (بچے کی موت) تو رائیگاں جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو سجع بازی کر رہا ہے؟“ اور رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ عورت کی میراث اس کے شوہر اور اس کی اولاد کے لیے ہے، اور دیت قاتلہ کے عصبہ (خاندان والوں) پر ہے۔