المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عبد الرحمن بن عوف ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي بَيْتِهَا، إِذْ سَمِعَتْ صَوْتًا رُجَّتْ مِنْهُ الْمَدِينَةُ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا عِيرٌ قَدِمَتْ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنَ الشَّامِ، وَكَانَتْ سَبْعَمِائَةِ رَاحِلَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَبْوًا» فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَتَاهَا فَسَأَلَهَا عَمَّا بَلَغَهُ فَحَدَّثَتْهُ قَالَ: «فَإِنِّي أُشْهِدُكِ أَنَّهَا بِأَحْمَالِها وَأَقْتَابِهَا، وَأَحْلَاسِهَا فِي سَبِيلِ اللهِ»سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے گھر میں تھیں کہ انہوں نے ایک ایسی آواز سنی جس سے مدینہ لرز اٹھا، تو انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ عبدالرحمٰن بن عوف کے لیے شام سے آنے والا قافلہ ہے، جو سات سو اونٹوں پر مشتمل تھا۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سن لو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: ”میں نے عبدالرحمٰن بن عوف کو گھسٹتے ہوئے جنت میں داخل ہوتے دیکھا۔“ یہ بات عبدالرحمٰن تک پہنچی تو وہ ان کے پاس آئے اور جو بات انہیں پہنچی تھی اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے انہیں پوری بات بتائی۔ عبدالرحمٰن نے کہا: ”تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ قافلہ اپنے بوجھ، اپنے کجاووں اور اپنے سامان سمیت اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔“