حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ أَعْطَى لِجَزِيلٍ مِنَ الْمَالِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ مِنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ أَهْلُهُ يَقُولُونَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الْفَيَّاضَ»
ترجمہ
…قبیصہ بن جابر کہتے ہیں: میں نے کبھی کسی آدمی کو طلحہ بن عبیداللہ سے بڑھ کر بغیر مانگے بڑی مقدار میں مال دیتے نہیں دیکھا۔ سفیان کہتے ہیں: اور ان کے گھر والے کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ”فیاض“ (بہت زیادہ عطا کرنے والا) کا لقب دیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ جَدَّتِهِ - وَهِي امْرَأَتُهُ سُعْدَى -، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا طَلْحَةُ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثِقَلًا، فَقُلْتُ: مَا لَكَ، لَعَلَّ رَابَكَ مِنَّا شَيْءٌ فَنُعْتِبَكَ؟ قَالَ: «لَا، وَلَنِعْمَ حَلِيلَةِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ أَنْتِ، وَلَكِنِ اجْتَمَعَ عِنْدِي مَالٌ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهِ» . قَالَتْ: وَمَا يَغُمُّكَ مِنْهُ؟ أُدْعُ قَوْمَكَ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، عَلَيَّ قَوْمِي» ، فَسَأَلْتُ الْخَازِنَ: كَمْ قَسَمَ؟ قَالَ: أَرْبَعَمِائَةِ أَلْفٍ
ترجمہ
…طلحہ بن یحییٰ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں - جو ان کی زوجہ سعدیٰ تھیں - وہ کہتی ہیں: ایک دن طلحہ میرے پاس آئے تو میں نے ان میں بوجھل پن محسوس کیا، تو میں نے پوچھا: کیا بات ہے، شاید ہماری طرف سے کوئی بات آپ کو ناگوار گزری ہو اور ہم اس کی تلافی کریں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، تم تو مسلمان مرد کی بہترین زوجہ ہو، لیکن میرے پاس مال جمع ہو گیا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا کیا کروں۔ اس نے کہا: تو یہ آپ کو کیا غمگین کرتا ہے؟ اپنی قوم کو بلائیں اور یہ ان میں تقسیم کر دیں۔ تو انہوں نے کہا: اے لڑکے! میری قوم کو بلاؤ۔ راوی کہتی ہیں: میں نے خزانچی سے پوچھا: انہوں نے کتنا تقسیم کیا؟ اس نے کہا: چار لاکھ درہم۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: «كَانَتِ غَلَّةُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفًا وَافِيًا»
ترجمہ
عمرو بن دینار کہتے ہیں: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی روزانہ کی آمدنی پورے ایک ہزار درہم ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عِيسَى بْنِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " سَمَّانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: طَلْحَةَ الْخَيْرِ، وَفِي غَزْوَةِ ذِي الْعَشِيرَةِ: طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ: طَلْحَةَ الْجُودِ «قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ» بِالسِّينِ وَالشِّينِ جَمِيعًا، فَبِالسِّينِ مِنَ الْعُسْرَةِ، وَبِالشِّينِ مَوْضِعٌ "
ترجمہ
…سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن مجھے ”طلحۃ الخیر“ (بھلائی والا طلحہ)، غزوہ ذی العشیرہ میں ”طلحۃ الفیاض“ (بہت عطا کرنے والا طلحہ)، اور حنین کے دن ”طلحۃ الجود“ (سخاوت والا طلحہ) کا لقب دیا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (لفظ ”العشیرہ“) سین اور شین دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، سین کے ساتھ تنگی کے معنی میں اور شین کے ساتھ ایک جگہ کا نام ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (لفظ ”العشیرہ“) سین اور شین دونوں کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، سین کے ساتھ تنگی کے معنی میں اور شین کے ساتھ ایک جگہ کا نام ہے۔
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّ طَلْحَةَ، نَحَرَ جَزُورًا، وَحَفَرَ بِئْرًا يَوْمَ ذِي قَرَدَ فَأَطْعَمَهُمْ وَسَقَاهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا طَلْحَةُ الْفَيَّاضُ» فَسُمِّي طَلْحَةَ الْفَيَّاضَ
ترجمہ
اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ اپنے چچا موسیٰ بن طلحہ سے روایت کرتے ہیں کہ طلحہ نے ذی قرد کے دن ایک اونٹ ذبح کیا اور ایک کنواں کھودا، پھر لوگوں کو کھلایا پلایا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے طلحۃ الفیاض!“ چنانچہ ان کا نام طلحۃ الفیاض پڑ گیا۔