حدیث نمبر: 194
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ جَدَّتِهِ - وَهِي امْرَأَتُهُ سُعْدَى -، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا طَلْحَةُ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ ثِقَلًا، فَقُلْتُ: مَا لَكَ، لَعَلَّ رَابَكَ مِنَّا شَيْءٌ فَنُعْتِبَكَ؟ قَالَ: «لَا، وَلَنِعْمَ حَلِيلَةِ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ أَنْتِ، وَلَكِنِ اجْتَمَعَ عِنْدِي مَالٌ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهِ» . قَالَتْ: وَمَا يَغُمُّكَ مِنْهُ؟ أُدْعُ قَوْمَكَ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، عَلَيَّ قَوْمِي» ، فَسَأَلْتُ الْخَازِنَ: كَمْ قَسَمَ؟ قَالَ: أَرْبَعَمِائَةِ أَلْفٍ
ترجمہ

…طلحہ بن یحییٰ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں - جو ان کی زوجہ سعدیٰ تھیں - وہ کہتی ہیں: ایک دن طلحہ میرے پاس آئے تو میں نے ان میں بوجھل پن محسوس کیا، تو میں نے پوچھا: کیا بات ہے، شاید ہماری طرف سے کوئی بات آپ کو ناگوار گزری ہو اور ہم اس کی تلافی کریں؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، تم تو مسلمان مرد کی بہترین زوجہ ہو، لیکن میرے پاس مال جمع ہو گیا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا کیا کروں۔ اس نے کہا: تو یہ آپ کو کیا غمگین کرتا ہے؟ اپنی قوم کو بلائیں اور یہ ان میں تقسیم کر دیں۔ تو انہوں نے کہا: اے لڑکے! میری قوم کو بلاؤ۔ راوی کہتی ہیں: میں نے خزانچی سے پوچھا: انہوں نے کتنا تقسیم کیا؟ اس نے کہا: چار لاکھ درہم۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 194
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 112، حدیث 195