قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعَيْنِ الرُّومِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا غَزْوَةُ تَبُوكَ ، أَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا ، وَهُمْ شِبَاعٌ وَنَحْنُ جِيَاعٌ ، فَخَطَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ : مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ طَعَامٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ ، وَبَسَطَ نِطَعًا ، فَأُتِيَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ صَاعًا ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ دَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : خُذُوا ، فَأَخَذُوا ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَرْبِطُ كُمَّ قَمِيصِهِ فَيَأْخُذُ فِيهِ ، فَفَضَلَ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ، فَلَا يَقُولُهَا رَجُلٌ مُحِقٌّ فَيَدْخُلُ النَّارَ .
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ایک سفر پر) نکلے، یہاں تک کہ جب ہم اس مقام پر پہنچے جسے «عَيْنِ الرُّومِ» (عین الروم) کہا جاتا ہے اور یہ غزوۂ تبوک کا واقعہ ہے، تو ہمیں سخت بھوک نے آلیا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کل ہمارا دشمن سے سامنا ہوگا، وہ آسودہ اور شکم سیر ہیں جبکہ ہم بھوکے ہیں (تو لڑائی کیسے ہوگی؟)۔“ اس پر نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا: ”جس کے پاس بھی ضرورت سے زائد کھانا ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے۔“ پھر آپ ﷺ نے چمڑے کا ایک دسترخوان بچھایا جس پر بیس صاع سے کچھ اوپر غلہ لا کر رکھا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی، پھر لوگوں کو بلا کر فرمایا: ”(اس میں سے) اٹھاؤ۔“ لوگوں نے لینا شروع کیا، یہاں تک کہ عالم یہ ہو گیا کہ آدمی اپنی قمیص کی آستین کو (نیچے سے) باندھ کر اس میں غلہ بھرنے لگا، اس کے باوجود کچھ کھانا بچ گیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، جو شخص بھی صدقِ دل اور حقانیت کے ساتھ یہ کلمات کہے گا وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابی زیاد اور عاصم بن عبید اللہ راوی ضعیف ہیں، تاہم کثرتِ طعام کے معجزے اور کلمہ شہادت کی فضیلت کے دیگر شواہد صحیح احادیث میں موجود ہیں۔
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابی زیاد اور عاصم بن عبید اللہ راوی ضعیف ہیں، تاہم کثرتِ طعام کے معجزے اور کلمہ شہادت کی فضیلت کے دیگر شواہد صحیح احادیث میں موجود ہیں۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
وَفِيهِ : فَمَنْ لَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمْهُ وَلَا يُجَالِسْهُ .
وَفِيهِ : هَذِهِ طَيْبَةُ ، أَسْكَنَنِيهَا رَبِّي ، تَنْفِي خَبَثَ أَهْلِهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، فَمَنْ لَقِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمْهُ وَلَا يُجَالِسْهُ .
وَفِيهِ : فَمَنْ لَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمْهُ وَلَا يُجَالِسْهُ .
وَفِيهِ : هَذِهِ طَيْبَةُ ، أَسْكَنَنِيهَا رَبِّي ، تَنْفِي خَبَثَ أَهْلِهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، فَمَنْ لَقِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمْهُ وَلَا يُجَالِسْهُ .
ترجمہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے (پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی)؛
اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ان لوگوں میں سے کسی سے ملے جو (بغیر عذر کے جہاد سے) پیچھے رہ گئے تھے، تو وہ نہ تو ان سے گفتگو کرے اور نہ ہی ان کی مجلس میں بیٹھے۔“
اور اس میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ (مدینہ منورہ) ہے، میرے رب نے مجھے یہاں آباد کیا ہے، یہ شہر اپنے باسیوں کی گندگی اور خبث کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جیسے لوہار کی دھونکنی لوہے کے زنگ اور میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، پس تم میں سے جو کوئی ان پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی سے ملے تو وہ ان سے نہ کلام کرے اور نہ ہی ان کے ساتھ بیٹھے۔“
اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ان لوگوں میں سے کسی سے ملے جو (بغیر عذر کے جہاد سے) پیچھے رہ گئے تھے، تو وہ نہ تو ان سے گفتگو کرے اور نہ ہی ان کی مجلس میں بیٹھے۔“
اور اس میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ (مدینہ منورہ) ہے، میرے رب نے مجھے یہاں آباد کیا ہے، یہ شہر اپنے باسیوں کی گندگی اور خبث کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جیسے لوہار کی دھونکنی لوہے کے زنگ اور میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، پس تم میں سے جو کوئی ان پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی سے ملے تو وہ ان سے نہ کلام کرے اور نہ ہی ان کے ساتھ بیٹھے۔“
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ فَضَالَةَ الزَّهْرَانِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ إِذْ مَالَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ ، فَاتَّبَعْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : أَيْنَ النَّاسُ ؟ قُلْتُ : تَرَكْتُهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، فَاحْتُبِسَ قَدْرَ مَا يَقْضِي الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ قَالَ : حَاجَتَكَ ، قُلْتُ : مَا لِي حَاجَةٌ ، فَرَكِبْنَا حَتَّى أَدْرَكْنَا النَّاسَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، جب ہم رات کے وقت آپ ﷺ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ایک طرف کو جھک گئی، چنانچہ میں آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیا، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا: ”لوگ کہاں رہ گئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں انہیں فلاں فلاں جگہ پر چھوڑ آیا ہوں، تب رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی بٹھائی اور اس سے نیچے اترے، پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے اور اتنی دیر تک رکے رہے جتنا وقت ایک آدمی کو اپنی ضرورت یعنی قضائے حاجت پوری کرنے میں لگتا ہے، پھر راوی نے موزوں پر مسح کرنے سے متعلق پوری حدیث ذکر کی، اور اس کے آخر میں بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کوئی کام ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، چنانچہ پھر ہم سوار ہو گئے یہاں تک کہ ہم لوگوں تک جا پہنچے۔
اس کی سند صحیح ہے۔
اس کی سند صحیح ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَذْهَبُ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى قَيْصَرَ وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : وَإِنْ لَمْ يُقْتَلْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ لَمْ يُقْتَلْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ ، فَأَتَاهُ بِالْكِتَابِ فَقَرَأَهُ ، فَقَالَ : اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّكُمْ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي مُتَّبِعُهُ ، وَلَكِنْ لَا أُرِيدُ أَنْ أَدَعَ مُلْكِي ، وَبَعَثَ مَعَهُ بِدَنَانِيرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبَ ، وَقَسَّمَ الدَّنَانِيرَ .
ترجمہ
بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو میرا یہ خط قیصرِ (روم) تک لے جائے گا اور اس کے بدلے میں اس کے لیے جنت (کا وعدہ) ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: کیا (یہ اجر تب بھی ملے گا) اگرچہ وہ قتل نہ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، اگرچہ وہ قتل نہ کیا جائے۔“ چنانچہ وہ شخص روانہ ہوا اور قیصر کے پاس پہنچ کر اسے خط پیش کیا، اس نے خط پڑھا اور کہا: اپنے نبی کے پاس واپس جاؤ اور انہیں خبر دو کہ میں ان کا پیروکار (مسلمان) ہوں، لیکن میں اپنی بادشاہت ترک کرنا نہیں چاہتا، اور اس نے اس قاصد کے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ دینار بھی روانہ کیے۔ وہ شخص واپس پلٹا اور آپ ﷺ کو صورتحال کی خبر دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ بولا ہے (کہ وہ میرا متبع ہے)۔“ اور آپ ﷺ نے وہ دینار تقسیم فرما دیے۔
یہ روایت مسند الحارث (4316) میں موجود ہے، بکر بن عبد اللہ المزنی تابعی ہیں اس لیے یہ حدیث مرسل ہے۔
یہ روایت مسند الحارث (4316) میں موجود ہے، بکر بن عبد اللہ المزنی تابعی ہیں اس لیے یہ حدیث مرسل ہے۔