المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة تبوك باب: غزوۂ تبوک کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ هُوَ الْمُزَنِيُّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَذْهَبُ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى قَيْصَرَ وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : وَإِنْ لَمْ يُقْتَلْ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ لَمْ يُقْتَلْ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ ، فَأَتَاهُ بِالْكِتَابِ فَقَرَأَهُ ، فَقَالَ : اذْهَبْ إِلَى نَبِيِّكُمْ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي مُتَّبِعُهُ ، وَلَكِنْ لَا أُرِيدُ أَنْ أَدَعَ مُلْكِي ، وَبَعَثَ مَعَهُ بِدَنَانِيرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَذَبَ ، وَقَسَّمَ الدَّنَانِيرَ .بکر بن عبداللہ المزنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو میرا یہ خط قیصرِ (روم) تک لے جائے گا اور اس کے بدلے میں اس کے لیے جنت (کا وعدہ) ہے؟“ ایک شخص نے عرض کیا: کیا (یہ اجر تب بھی ملے گا) اگرچہ وہ قتل نہ کیا جائے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں، اگرچہ وہ قتل نہ کیا جائے۔“ چنانچہ وہ شخص روانہ ہوا اور قیصر کے پاس پہنچ کر اسے خط پیش کیا، اس نے خط پڑھا اور کہا: اپنے نبی کے پاس واپس جاؤ اور انہیں خبر دو کہ میں ان کا پیروکار (مسلمان) ہوں، لیکن میں اپنی بادشاہت ترک کرنا نہیں چاہتا، اور اس نے اس قاصد کے ہاتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ دینار بھی روانہ کیے۔ وہ شخص واپس پلٹا اور آپ ﷺ کو صورتحال کی خبر دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ بولا ہے (کہ وہ میرا متبع ہے)۔“ اور آپ ﷺ نے وہ دینار تقسیم فرما دیے۔
یہ روایت مسند الحارث (4316) میں موجود ہے، بکر بن عبد اللہ المزنی تابعی ہیں اس لیے یہ حدیث مرسل ہے۔