❮
❯
حدیث نمبر: 4313
( 207 ) تَقَدَّمَ فِي غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قِصَّةُ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

وضاحت: سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ غزوۂ حدیبیہ کے ضمن میں پہلے گزر چکا ہے۔

قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِعَيْنِ الرُّومِ الَّتِي يُقَالُ لَهَا غَزْوَةُ تَبُوكَ ، أَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا ، وَهُمْ شِبَاعٌ وَنَحْنُ جِيَاعٌ ، فَخَطَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ : مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ طَعَامٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ ، وَبَسَطَ نِطَعًا ، فَأُتِيَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ صَاعًا ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ دَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : خُذُوا ، فَأَخَذُوا ، حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَرْبِطُ كُمَّ قَمِيصِهِ فَيَأْخُذُ فِيهِ ، فَفَضَلَ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ ، فَلَا يَقُولُهَا رَجُلٌ مُحِقٌّ فَيَدْخُلُ النَّارَ .
ترجمہ

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ایک سفر پر) نکلے، یہاں تک کہ جب ہم اس مقام پر پہنچے جسے «عَيْنِ الرُّومِ» (عین الروم) کہا جاتا ہے اور یہ غزوۂ تبوک کا واقعہ ہے، تو ہمیں سخت بھوک نے آلیا۔ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کل ہمارا دشمن سے سامنا ہوگا، وہ آسودہ اور شکم سیر ہیں جبکہ ہم بھوکے ہیں (تو لڑائی کیسے ہوگی؟)۔“ اس پر نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور پھر فرمایا: ”جس کے پاس بھی ضرورت سے زائد کھانا ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے۔“ پھر آپ ﷺ نے چمڑے کا ایک دسترخوان بچھایا جس پر بیس صاع سے کچھ اوپر غلہ لا کر رکھا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور برکت کی دعا فرمائی، پھر لوگوں کو بلا کر فرمایا: ”(اس میں سے) اٹھاؤ۔“ لوگوں نے لینا شروع کیا، یہاں تک کہ عالم یہ ہو گیا کہ آدمی اپنی قمیص کی آستین کو (نیچے سے) باندھ کر اس میں غلہ بھرنے لگا، اس کے باوجود کچھ کھانا بچ گیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں، جو شخص بھی صدقِ دل اور حقانیت کے ساتھ یہ کلمات کہے گا وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابی زیاد اور عاصم بن عبید اللہ راوی ضعیف ہیں، تاہم کثرتِ طعام کے معجزے اور کلمہ شہادت کی فضیلت کے دیگر شواہد صحیح احادیث میں موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4313
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 14112، 14113، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 3626، 6501/1»