المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة تبوك باب: غزوۂ تبوک کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا أَقْبَلْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
وَفِيهِ : فَمَنْ لَقِيَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمْهُ وَلَا يُجَالِسْهُ .
وَفِيهِ : هَذِهِ طَيْبَةُ ، أَسْكَنَنِيهَا رَبِّي ، تَنْفِي خَبَثَ أَهْلِهَا كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، فَمَنْ لَقِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْمُتَخَلِّفِينَ فَلَا يُكَلِّمْهُ وَلَا يُجَالِسْهُ .سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے (پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی)؛
اور اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص ان لوگوں میں سے کسی سے ملے جو (بغیر عذر کے جہاد سے) پیچھے رہ گئے تھے، تو وہ نہ تو ان سے گفتگو کرے اور نہ ہی ان کی مجلس میں بیٹھے۔“
اور اس میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طیبہ (مدینہ منورہ) ہے، میرے رب نے مجھے یہاں آباد کیا ہے، یہ شہر اپنے باسیوں کی گندگی اور خبث کو اس طرح نکال باہر کرتا ہے جیسے لوہار کی دھونکنی لوہے کے زنگ اور میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، پس تم میں سے جو کوئی ان پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی سے ملے تو وہ ان سے نہ کلام کرے اور نہ ہی ان کے ساتھ بیٹھے۔“