المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة تبوك باب: غزوۂ تبوک کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ فَضَالَةَ الزَّهْرَانِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ إِذْ مَالَتْ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ ، فَاتَّبَعْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : أَيْنَ النَّاسُ ؟ قُلْتُ : تَرَكْتُهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، فَاحْتُبِسَ قَدْرَ مَا يَقْضِي الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ : ثُمَّ قَالَ : حَاجَتَكَ ، قُلْتُ : مَا لِي حَاجَةٌ ، فَرَكِبْنَا حَتَّى أَدْرَكْنَا النَّاسَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، جب ہم رات کے وقت آپ ﷺ کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی ایک طرف کو جھک گئی، چنانچہ میں آپ ﷺ کے پیچھے ہو لیا، جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا: ”لوگ کہاں رہ گئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں انہیں فلاں فلاں جگہ پر چھوڑ آیا ہوں، تب رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی بٹھائی اور اس سے نیچے اترے، پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گئے اور اتنی دیر تک رکے رہے جتنا وقت ایک آدمی کو اپنی ضرورت یعنی قضائے حاجت پوری کرنے میں لگتا ہے، پھر راوی نے موزوں پر مسح کرنے سے متعلق پوری حدیث ذکر کی، اور اس کے آخر میں بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کوئی کام ہے؟“ میں نے عرض کیا: مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، چنانچہ پھر ہم سوار ہو گئے یہاں تک کہ ہم لوگوں تک جا پہنچے۔
اس کی سند صحیح ہے۔