المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ بعث خالد بن الوليد رضي اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أكيدر دومة باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اکیدرِ دومہ کی طرف بھیجنے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَرَجَتْ خَيْلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعَ بِهَا أُكَيْدِرُ دُومَةِ الْجَنْدَلِ ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ خَيْلَكَ انْطَلَقَتْ ، وَإِنِّي خِفْتُ عَلَى أَرْضِي وَمَالِي ، فَاكْتُبْ لِي كِتَابًا لَا يُتَعَرَّضُ لِشَيْءٍ هُوَ لِي ، فَإِنِّي مُقِرٌّ بِالَّذِي عَلَيَّ مِنَ الْحَقِّ ، فَكَتَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ شہسوار روانہ ہوئے، جس کی خبر دومۃ الجندل کے حکمران اکیدر کو پہنچی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ کے شہسوار روانہ ہوئے ہیں، اور مجھے اپنی زمین اور اپنے مال و متاع کے بارے میں اندیشہ لاحق ہوا ہے، لہٰذا آپ میرے لیے ایک تحریری پروانہ لکھ دیں تاکہ میری کسی بھی ملکیت سے تعرض نہ کیا جائے، یقیناً میں اس حق کا اقرار کرتا ہوں جو مجھ پر واجب ہے“؛ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لیے وہ تحریر لکھوا دی۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (4317) میں روایت کیا ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے عبید اللہ بن ایاد کے جو کہ صدوق (سچے) ہیں۔