کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مشرکین کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو دی گئی اذیتوں اور آپ کی ثابت قدمی کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُحَارِبِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ ، وَأَنَا فِي بِيَاعَةٍ لِي أَبِيعُهَا ، وَمَرَّ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ حَمْرَاءُ ، وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، تُفْلِحُوا ، قَالَ : وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ بِالْحِجَارَةِ ، قَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ ، وَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تُطِيعُوهُ ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قُلْتُ : فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ ؟ قَالُوا : عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى ، وَهُوَ أَبُو لَهَبٍ ، قَالَ : فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ قِبَلَ الْمَدِينَةِ أَقْبَلْنَا فِي رَكْبٍ مِنَ الرَّبَذَةِ ، حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ ذو المجاز کے بازار میں دو مرتبہ دیکھا، اس وقت میں وہاں اپنی تجارت کی غرض سے موجود تھا، آپ ﷺ وہاں سے گزرے اور آپ ﷺ نے ایک سرخ جبہ زیب تن فرمایا ہوا تھا، آپ ﷺ نہایت بلند آواز سے یہ پکار رہے تھے: ”اے لوگو! تم «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، یہ کہہ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے“۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے ہولیا تھا جو آپ ﷺ کو پتھر مار رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے آپ ﷺ کے دونوں ٹخنوں اور ایڑی کے اوپر والے پٹھوں کو لہولہان کر دیا تھا، اور وہ پکار کر کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! اس کی بات ہرگز نہ ماننا، کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔“ میں نے دریافت کیا: ”یہ کون صاحب ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ بنو عبد المطلب کا ایک نوجوان ہے۔“ میں نے پھر پوچھا: ”وہ کون ہے جو ان کے پیچھے لگا ہوا ہے اور انہیں پتھر مار رہا ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”یہ ان کا چچا عبد العزیٰ ہے، جس کی کنیت ابو لہب ہے۔“ راوی کہتے ہیں: ”پھر جب مدینہ کی جانب اسلام کا بول بالا ہوا، تو ہم مقامِ ربذہ سے ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مدینہ کے قریب ایک جگہ اترے...“ پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے 'المصنف' (36544) میں، امام احمد نے 'المسند' (16023) میں، اور امام نسائی نے 'السنن الکبریٰ' (10146) میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 6»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يُؤْذِينَا فِي نَادِينَا وَفِي مَسْجِدِنَا ، فَانْهَهُ عَنْ أَذَانَا ، فَقَالَ : يَا عَقِيلُ ، ائْتِنِي بِمُحَمَّدٍ ، فَذَهَبْتُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ بَنِي عَمِّكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تُؤْذِيهِمْ ، فَانْتَهِ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَحَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : أَتَرَوْنَ هَذِهِ الشَّمْسَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِأَقْدَرَ عَلَى أَنْ أَدَعَ لَكُمْ ذَلِكَ مِنْ أَنْ تُشْعِلُوا مِنْهَا شُعْلَةً ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : مَا كَذَبَنَا ابْنُ أَخِي ، فَارْجِعُوا .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .
ترجمہ
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے ابوطالب! آپ کا بھتیجا ہماری مجلسوں اور ہماری مسجد (حرم) میں ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، لہٰذا آپ انہیں ہمیں ایذا دینے سے روک دیں۔“ تب ابوطالب نے کہا: ”اے عقیل! میرے پاس محمد (ﷺ) کو بلا کر لاؤ۔“ چنانچہ میں گیا اور انہیں لے کر آیا، تو ابوطالب نے کہا: ”اے بھتیجے! آپ کے یہ چچا زاد بھائیوں کا دعویٰ ہے کہ آپ انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں، لہٰذا آپ اس سے باز آجائیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اپنی نگاہِ مبارک آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”کیا تم اس سورج کو دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری خاطر اس کام (دعوتِ دین) کو چھوڑنے پر اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا جتنا کہ تم اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ روشن کرنے پر قدرت رکھتے ہو۔“ تب ابوطالب نے قریش سے کہا: ”میرے بھتیجے نے ہم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا، لہٰذا تم لوگ واپس چلے جاؤ۔“
یہ سند حسن ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4227
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ . »
«أخرجه مسند البزار برقم: 2170، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 6526، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8548، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9809»
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ .
4228 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : إِنَّهُمْ قَالُوا لَهَا : مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامُوا إِلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمْ ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : أَدْرِكْ صَاحِبَكَ ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا وَإِنَّ لَهُ لَغَدَائِرَ أَرْبَعًا ، وَهُوَ يَقُولُ : وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ ، قَالَ : فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ .
ترجمہ
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (تکلیف پہنچانے میں) کس حد تک سخت پایا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ مشرکین مسجد حرام میں بیٹھے رسول اللہ ﷺ کا اور آپ ﷺ کے ان کے خود ساختہ معبودوں کے بارے میں فرمودات کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لے آئے، تو وہ سب کے سب یکبارگی آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑے۔ اتنے میں ایک فریادی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور پکارا کہ اپنے صاحب کی خبر لیجیے! سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً ہمارے پاس سے نکل کھڑے ہوئے، اس وقت ان کے سر کے بالوں کی چار لٹیں (مینڈھیاں) بنی ہوئی تھیں، وہ (مشرکین کو مخاطب کر کے) فرما رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو محض اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلائل و نشانیاں لے کر آیا ہے؟“ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یہ سن کر مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ گئے (اور انہیں شدید زدوکوب کیا)۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس واپس آئے تو (ان کی حالت یہ تھی کہ) وہ اپنے بالوں کی لٹوں میں سے جس کسی لٹ کو بھی ہاتھ لگاتے تھے وہ (مشرکین کے کھینچنے کی وجہ سے ٹوٹ کر) ان کے ہاتھ میں آ جاتی تھی، اور وہ اس حال میں بھی یہی کہہ رہے تھے: «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے بزرگی اور عظمت والے! تو نہایت بابرکت ہے۔“
تخریج: امام حمیدی اور امام ابو یعلیٰ نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4228
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»