❮
❯
حدیث نمبر: 4226
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُحَارِبِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ ، وَأَنَا فِي بِيَاعَةٍ لِي أَبِيعُهَا ، وَمَرَّ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ حَمْرَاءُ ، وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ : أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، تُفْلِحُوا ، قَالَ : وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ بِالْحِجَارَةِ ، قَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ ، وَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تُطِيعُوهُ ، فَإِنَّهُ كَذَّابٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا غُلَامٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قُلْتُ : فَمَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ ؟ قَالُوا : عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى ، وَهُوَ أَبُو لَهَبٍ ، قَالَ : فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ قِبَلَ الْمَدِينَةِ أَقْبَلْنَا فِي رَكْبٍ مِنَ الرَّبَذَةِ ، حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
ترجمہ

سیدنا طارق بن عبداللہ المحاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ ذو المجاز کے بازار میں دو مرتبہ دیکھا، اس وقت میں وہاں اپنی تجارت کی غرض سے موجود تھا، آپ ﷺ وہاں سے گزرے اور آپ ﷺ نے ایک سرخ جبہ زیب تن فرمایا ہوا تھا، آپ ﷺ نہایت بلند آواز سے یہ پکار رہے تھے: ”اے لوگو! تم «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، تُفْلِحُوا» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، یہ کہہ لو تم کامیاب ہو جاؤ گے“۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے ہولیا تھا جو آپ ﷺ کو پتھر مار رہا تھا، یہاں تک کہ اس نے آپ ﷺ کے دونوں ٹخنوں اور ایڑی کے اوپر والے پٹھوں کو لہولہان کر دیا تھا، اور وہ پکار کر کہہ رہا تھا: ”اے لوگو! اس کی بات ہرگز نہ ماننا، کیونکہ یہ جھوٹا ہے۔“ میں نے دریافت کیا: ”یہ کون صاحب ہیں؟“ لوگوں نے بتایا: ”یہ بنو عبد المطلب کا ایک نوجوان ہے۔“ میں نے پھر پوچھا: ”وہ کون ہے جو ان کے پیچھے لگا ہوا ہے اور انہیں پتھر مار رہا ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”یہ ان کا چچا عبد العزیٰ ہے، جس کی کنیت ابو لہب ہے۔“ راوی کہتے ہیں: ”پھر جب مدینہ کی جانب اسلام کا بول بالا ہوا، تو ہم مقامِ ربذہ سے ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مدینہ کے قریب ایک جگہ اترے...“ پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے 'المصنف' (36544) میں، امام احمد نے 'المسند' (16023) میں، اور امام نسائی نے 'السنن الکبریٰ' (10146) میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 6»