المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ مَا آذى المشركون بِهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وثباته عَلَى أمره باب: مشرکین کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو دی گئی اذیتوں اور آپ کی ثابت قدمی کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ .
4228 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ ابْنِ تَدْرُسَ مَوْلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَتْ : إِنَّهُمْ قَالُوا لَهَا : مَا أَشَدُّ مَا رَأَيْتِ الْمُشْرِكِينَ بَلَغُوا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ يَتَذَاكَرُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَقُولُ فِي آلِهَتِهِمْ ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامُوا إِلَيْهِ بِأَجْمَعِهِمْ ، فَأَتَى الصَّرِيخُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : أَدْرِكْ صَاحِبَكَ ، فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا وَإِنَّ لَهُ لَغَدَائِرَ أَرْبَعًا ، وَهُوَ يَقُولُ : وَيْلَكُمْ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ ، قَالَ : فَلَهَوْا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلُوا عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَتْ : فَرَجَعَ إِلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَ لَا يَمَسُّ شَيْئًا مِنْ غَدَائِرِهِ إِلَّا جَاءَ مَعَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ .سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے مشرکین کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (تکلیف پہنچانے میں) کس حد تک سخت پایا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ مشرکین مسجد حرام میں بیٹھے رسول اللہ ﷺ کا اور آپ ﷺ کے ان کے خود ساختہ معبودوں کے بارے میں فرمودات کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لے آئے، تو وہ سب کے سب یکبارگی آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑے۔ اتنے میں ایک فریادی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور پکارا کہ اپنے صاحب کی خبر لیجیے! سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوراً ہمارے پاس سے نکل کھڑے ہوئے، اس وقت ان کے سر کے بالوں کی چار لٹیں (مینڈھیاں) بنی ہوئی تھیں، وہ (مشرکین کو مخاطب کر کے) فرما رہے تھے: ﴿أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [سورة غافر: 28] ”کیا تم ایک ایسے شخص کو محض اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلائل و نشانیاں لے کر آیا ہے؟“ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یہ سن کر مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ گئے (اور انہیں شدید زدوکوب کیا)۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے پاس واپس آئے تو (ان کی حالت یہ تھی کہ) وہ اپنے بالوں کی لٹوں میں سے جس کسی لٹ کو بھی ہاتھ لگاتے تھے وہ (مشرکین کے کھینچنے کی وجہ سے ٹوٹ کر) ان کے ہاتھ میں آ جاتی تھی، اور وہ اس حال میں بھی یہی کہہ رہے تھے: «تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ» ”اے بزرگی اور عظمت والے! تو نہایت بابرکت ہے۔“
تخریج: امام حمیدی اور امام ابو یعلیٰ نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔