کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ أَوَّلُ إِسْلَامِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : ضَرَبَ أُخْتِي الْمَخَاضُ لَيْلًا ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ فَدَخَلْتُ فِي أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فِي لَيْلَةٍ قَارَّةٍ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْحِجْرَ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ ، فَصَلَّى مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ شَيْئًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهُ ، فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : عُمَرُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُمَرُ ، مَا تَتْرُكُنِي لَيْلًا وَلَا نَهَارًا ، قَالَ : فَخَشِيتُ أَنْ يَدْعُوَ عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عُمَرُ ، اسْتُرْهُ قُلْتُ : لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأُعْلِنَنَّهُ كَمَا أَعْلَنْتُ بِالشِّرْكِ .
ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ایک رات میری بہن کو زچگی کا درد «الْمَخَاضُ» ”بچے کی ولادت کی تکلیف“ شروع ہوئی تو میں (اضطراب کے عالم میں) گھر سے نکل پڑا اور ایک کڑکڑاتی سردی کی رات میں بیت اللہ کے پردوں میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور حطیم (حجر) میں داخل ہوئے، اس وقت آپ ﷺ نے نعلین پہن رکھی تھیں، پھر آپ ﷺ نے جب تک اللہ کو منظور تھا نماز ادا کی اور پھر وہاں سے پلٹے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے (قرأت میں) ایسی کلام سنی جس کی مثال پہلے کبھی نہ سنی تھی، چنانچہ میں (پردوں سے) نکلا اور آپ ﷺ کے پیچھے چل پڑا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”عمر“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم رات میں اور نہ ہی دن میں میرا پیچھا چھوڑو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ﷺ میرے خلاف بددعا نہ فرما دیں، تو میں نے فوراً عرض کیا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں“۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! اسے (فی الحال) پوشیدہ رکھو“۔ میں نے عرض کیا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، میں اس کا ضرور اعلانیہ اظہار کروں گا جس طرح میں نے شرک کا برملا اظہار کیا تھا“۔
[مسند أبي يعلى: 4229، اس کی سند میں عبداللہ بن المؤمل اپنے حافظے کی بنا پر ضعیف ہے]۔
[مسند أبي يعلى: 4229، اس کی سند میں عبداللہ بن المؤمل اپنے حافظے کی بنا پر ضعیف ہے]۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْعَلَاءِ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ لَقِيَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ وَهُوَ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تَعْمِدُ يَا عُمَرُ ؟ فَقَالَ : أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ مُحَمَّدًا ، قَالَ : وَكَيْفَ تَأْمَنُ فِي بَنِي هَاشِمٍ أَوْ بَنِي زُهْرَةَ وَقَدْ قَتَلْتَ مُحَمَّدًا ؟ قَالَ : مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَبَوْتَ وَتَرَكْتَ دِينَكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى الْعَجَبِ يَا عُمَرُ ؟ إِنَّ خَتَنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوَا وَتَرَكَا دِينَهُمَا الَّذِي هُمَا عَلَيْهِ ، قَالَ : فَمَشَى إِلَيْهِمَا ذَامِرًا ، قَالَ إِسْحَاقُ : يَعْنِي مُتَغَضِّبًا ، حَتَّى دَنَا مِنَ الْبَابِ وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : خَبَّابٌ ، يُقْرِئُهُمَا سُورَةَ طه ، قَالَ : فَلَمَّا سَمِعَ خَبَّابٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِسَّ عُمَرَ دَخَلَ تَحْتَ سَرِيرٍ لَهُمَا ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْهَيْنَمَةُ الَّتِي سَمِعْتُهَا عِنْدَكُمْ ؟ قَالَا : مَا عِنْدَنَا حَدِيثٌ تَحَدَّثْنَا بَيْنَنَا ، فَقَالَ : لَعَلَّكُمَا صَبَوْتُمَا وَتَرَكْتُمَا دِينَكُمَا الَّذِي أَنْتُمَا عَلَيْهِ ؟ فَقَالَ خَتَنُهُ : يَا عُمَرُ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْحَقُّ فِي غَيْرِ دِينِكَ ؟ قَالَ : فَأَقْبَلَ عَلَى خَتَنِهِ فَوَطِئَهُ وَطْئًا شَدِيدًا ، قَالَ : فَدَفَعَتْهُ أُخْتُهُ عَنْ زَوْجِهَا ، فَضَرَبَ وَجْهَهَا فَدَمِيَ وَجْهُهَا ، فَقَالَتْ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْحَقُّ فِي غَيْرِ دِينِكَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَرُونِي هَذَا الْكِتَابَ الَّذِي كُنْتُمْ تَقْرَؤُونَ قَالَ : وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْرَأُ الْكُتُبَ ، فَقَالَتْ أُخْتُهُ : لَا ، أَنْتَ رِجْسٌ ، أَعْطِنَا مَوْثِقًا مِنَ اللهِ تَعَالَى لَتَرُدَّنَّهُ عَلَيْنَا وَقُمْ فَاغْتَسِلْ وَتَوَضَّأْ ، قَالَ : فَفَعَلَ ، قَالَ : فَقَرَأَ : طه مَا أَنْـزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى إِلَى قَوْلِهِ : وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : دُلُّونِي عَلَى مُحَمَّدٍ ، فَلَمَّا سَمِعَ خَبَّابٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَلَامَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : أَبْشِرْ يَا عُمَرُ ، فَإِنِّي أَرْجُو أَنْ تَكُونَ دَعْوَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ ، فَقَالُوا : هُوَ فِي الدَّارِ الَّتِي فِي أَصْلِ الصَّفَا ، يَعْنِي : النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُوحَى إِلَيْهِ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَعَلَى الْبَابِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى حَمْزَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجِلَ الْقَوْمُ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، هَذَا عُمَرُ فَإِنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُسْلِمْ وَيَتَّبِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ يَكُنْ قَتْلُهُ عَلَيْنَا هَيِّنًا ، قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ وَحَمَائِلِ السَّيْفِ ، فَقَالَ : مَا أَنْتَ مُنْتَهِي يَا عُمَرُ حَتَّى يُنْزِلَ اللهُ تَعَالَى بِكَ الْخِزْيَ وَالنَّكَالَ مَا أَنْزَلَ بِالْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، اللَّهُمَّ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ ، فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللهِ .
4230 \ 2 - حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
4230 \ 3 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
وَأَوَّلَهُ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : فَتَقَلَّدَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السَّيْفَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ وَهُوَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ... الْحَدِيثَ .
4230 \ 2 - حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
4230 \ 3 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ .
وَأَوَّلَهُ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ الْخَمِيسِ : اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ : فَتَقَلَّدَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ السَّيْفَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ وَهُوَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ ... الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو زہرہ کے ایک شخص کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے اسلام لانے سے پہلے ہوئی، اس وقت انہوں نے تلوار لٹکائی ہوئی تھی، اس شخص نے پوچھا: "اے عمر! کہاں کا ارادہ ہے؟" انہوں نے جواب دیا: "میں (نعوذ باللہ) محمد (ﷺ) کو قتل کرنا چاہتا ہوں۔" اس شخص نے کہا: "اگر تم نے محمد (ﷺ) کو قتل کر دیا تو بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے اپنی جان کیسے بچاؤ گے؟" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "میرا خیال ہے کہ تم بھی بے دین ہو چکے ہو اور اپنا وہ قدیم دین چھوڑ چکے ہو جس پر تم قائم تھے۔" اس نے کہا: "اے عمر! کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات نہ بتاؤں؟ تمہارے بہنوئی اور تمہاری بہن بھی اپنا دین چھوڑ کر صابی ہو چکے ہیں۔" یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شدید غصے کی حالت میں ان کی طرف روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ دروازے کے قریب پہنچے تو وہاں ایک صاحب جنہیں خباب رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، وہ ان دونوں کو سورہ طٰہٰ کی تعلیم دے رہے تھے۔ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی آہٹ محسوس کی تو وہ گھر میں موجود ایک پلنگ کے نیچے چھپ گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اندر داخل ہو کر) پوچھا: "یہ کیسی دبی دبی آواز (بھنبھناہٹ) تھی جو میں نے تمہارے پاس سنی؟" انہوں نے کہا: "ہمارے پاس ایسی کوئی خاص بات نہیں تھی، ہم محض آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: "شاید تم دونوں اپنے آبائی دین سے پھر گئے ہو؟" ان کے بہنوئی نے کہا: "اے عمر! ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر حق آپ کے دین کے علاوہ (اسلام) میں ہو تو پھر آپ کا کیا خیال ہے؟" یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے بہنوئی پر ٹوٹ پڑے اور انہیں نہایت سختی سے مارا پیٹا۔ ان کی بہن اپنے شوہر کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے چہرے پر ضرب لگائی جس سے وہ خون آلود ہو گیا۔ تب ان کی بہن نے (بڑے جزم و یقین سے) کہا: "اگر حق آپ کے دین کے علاوہ کہیں اور ہے تو سن لیں! میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔" یہ دیکھ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (کچھ نرم پڑے اور) کہا: "مجھے وہ تحریر دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے"۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، ان کی بہن نے کہا: "نہیں، آپ (شرک کی وجہ سے) ناپاک ہیں، پہلے اللہ کے نام پر پکا عہد کریں کہ مطالعہ کے بعد اسے ہمیں واپس کر دیں گے، پھر اٹھیں اور غسل کر کے وضو کریں۔" سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ویسا ہی کیا، پھر انہوں نے وہ تحریر پڑھی جس میں ﴿طه ٭ مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى﴾ [سورة طه: 1-2] سے لے کر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي ٭ إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا﴾ [سورة طه: 14-15] تک آیات درج تھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (متاثر ہو کر) کہا: "مجھے محمد (ﷺ) کا پتہ بتاؤ۔" جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات سنی تو وہ باہر نکل آئے اور کہا: "اے عمر! آپ کو خوشخبری ہو، مجھے قوی امید ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعرات کی شام آپ کے حق میں جو دعا فرمائی تھی وہ قبول ہو گئی ہے، آپ ﷺ نے التجا کی تھی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ» ”اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعے دینِ اسلام کو غلبہ و عزت عطا فرما۔“ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت کوہِ صفا کے دامن میں واقع ایک گھر میں تشریف فرما ہیں اور آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو دروازے پر سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ موجود تھے۔ جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ہیبت سے خوفزدہ ہیں تو انہوں نے کہا: "ہاں، یہ عمر ہے، اگر اللہ نے اس کے حق میں خیر کا ارادہ فرمایا ہے تو یہ اسلام قبول کر لے گا، اور اگر صورتحال اس کے برعکس ہوئی تو اسے قتل کرنا ہمارے لیے نہایت آسان کام ہے۔" اتنے میں رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کپڑوں اور تلوار کے پٹکے کو مضبوطی سے پکڑ کر فرمایا: "اے عمر! کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک اللہ تعالیٰ تم پر ویسی ہی ذلت اور عبرتناک سزا نازل نہ کر دے جیسی ولید بن مغیرہ پر نازل کی تھی؟ اے اللہ! یہ عمر بن خطاب ہے، اے اللہ! عمر کے ذریعے دین کو عزت و قوت عطا فرما۔" تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پکار اٹھے: "میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں" اور وہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔ پھر انہوں نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! اب (باہر نکل کر اسلام کا) اعلان فرمائیے۔"
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے دیگر طرق مجاہد بن موسیٰ اور عبد الرحمن بصری سے بھی مروی ہیں جو اسی کے ہم معنی ہیں۔ ایک روایت کے آغاز میں یہ صراحت بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جمعرات کی شام دعا فرمائی تھی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ» ”اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعے دین کو غلبہ عطا فرما۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار لٹکا کر نکلنے اور بنو زہرہ کے شخص سے ملاقات کا واقعہ تفصیلاً مذکور ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے دیگر طرق مجاہد بن موسیٰ اور عبد الرحمن بصری سے بھی مروی ہیں جو اسی کے ہم معنی ہیں۔ ایک روایت کے آغاز میں یہ صراحت بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جمعرات کی شام دعا فرمائی تھی: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ» ”اے اللہ! عمر بن خطاب یا عمرو بن ہشام کے ذریعے دین کو غلبہ عطا فرما۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تلوار لٹکا کر نکلنے اور بنو زہرہ کے شخص سے ملاقات کا واقعہ تفصیلاً مذکور ہے۔