کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مشرکین کو ان کے بتوں کے معاملے میں پہنچنے والی اذیت کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنِي شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْمَدَائِنِيُّ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ أَنْطَلِقُ أَنَا وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ إِلَى أَصْنَامِ قُرَيْشٍ الَّتِي حَوْلَ الْكَعْبَةِ ، فَنَأْتِي الْعَذِرَاتِ ، فَنَأْخُذُ حُرَيْرَاقَ بِأَيْدِينَا ، فَنَنْطَلِقُ بِهِ إِلَى أَصْنَامِ قُرَيْشٍ فَنُلَطِّخُهَا ، فَيُصْبِحُونَ فَيَقُولُونَ : مَنْ فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا ؟ فَيَنْطَلِقُونَ إِلَيْهَا وَيَغْسِلُونَهَا بِاللَّبَنِ وَالْمَاءِ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ قریش کے ان بتوں کی طرف جایا کرتے تھے جو کعبہ کے ارد گرد (نصب) تھے، پس ہم گندگی کے مقامات پر جاتے اور اپنے ہاتھوں میں پتلا پاخانہ (غلاظت) لیتے، پھر اسے لے کر قریش کے بتوں کی طرف جاتے اور انہیں اس نجاست سے لتھڑ دیتے؛ جب صبح ہوتی تو وہ (مشرکین) کہتے: ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے؟ پھر وہ ان بتوں کی طرف دوڑتے اور انہیں دودھ اور پانی سے دھو کر صاف کرتے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4224
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ ، فَقَالَ لِي : ابْتَغِ لِي مَاءً ، فَأَتَيْتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فِي دَلْوٍ ، فَجَعَلَ يَبُلُّ بِهِ الثَّوْبَ ثُمَّ يَضْرِبُ بِهِ الصُّوَرَ ، وَيَقُولُ : قَاتَلَ اللهُ أَقْوَامًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ .
ترجمہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بیت اللہ (کعبہ) کے اندر داخل ہوا تو آپ ﷺ نے وہاں کچھ تصویریں دیکھیں، تب آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”میرے لیے پانی تلاش کر کے لاؤ“، چنانچہ میں ایک ڈول میں پانی لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ اس پانی سے کپڑا بھگو کر ان تصویروں پر مارنے (اور انہیں مٹانے) لگے اور ساتھ ساتھ یہ فرما رہے تھے: «قَاتَلَ اللهُ أَقْوَامًا يُصَوِّرُونَ مَا لَا يَخْلُقُونَ» ”اللہ تعالیٰ ایسی قوموں کو غارت کرے جو ان چیزوں کی تصویر کشی کرتے ہیں جنہیں وہ (حقیقتاً) پیدا نہیں کر سکتے۔“
[تخريج: مسند احمد: 21829، السنن الكبرى للنسائي: 6994، إسناده حسن]
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4225
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 1336، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 657، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25722، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6921، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 407»