المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ مَا آذى المشركون بِهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وثباته عَلَى أمره باب: مشرکین کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو دی گئی اذیتوں اور آپ کی ثابت قدمی کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالُوا : يَا أَبَا طَالِبٍ ، إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يُؤْذِينَا فِي نَادِينَا وَفِي مَسْجِدِنَا ، فَانْهَهُ عَنْ أَذَانَا ، فَقَالَ : يَا عَقِيلُ ، ائْتِنِي بِمُحَمَّدٍ ، فَذَهَبْتُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ بَنِي عَمِّكَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تُؤْذِيهِمْ ، فَانْتَهِ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَحَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ : أَتَرَوْنَ هَذِهِ الشَّمْسَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أَنَا بِأَقْدَرَ عَلَى أَنْ أَدَعَ لَكُمْ ذَلِكَ مِنْ أَنْ تُشْعِلُوا مِنْهَا شُعْلَةً ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ : مَا كَذَبَنَا ابْنُ أَخِي ، فَارْجِعُوا .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ .سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش کے کچھ لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے ابوطالب! آپ کا بھتیجا ہماری مجلسوں اور ہماری مسجد (حرم) میں ہمیں تکلیف پہنچاتا ہے، لہٰذا آپ انہیں ہمیں ایذا دینے سے روک دیں۔“ تب ابوطالب نے کہا: ”اے عقیل! میرے پاس محمد (ﷺ) کو بلا کر لاؤ۔“ چنانچہ میں گیا اور انہیں لے کر آیا، تو ابوطالب نے کہا: ”اے بھتیجے! آپ کے یہ چچا زاد بھائیوں کا دعویٰ ہے کہ آپ انہیں تکلیف پہنچاتے ہیں، لہٰذا آپ اس سے باز آجائیں۔“ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اپنی نگاہِ مبارک آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”کیا تم اس سورج کو دیکھ رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری خاطر اس کام (دعوتِ دین) کو چھوڑنے پر اس سے زیادہ قدرت نہیں رکھتا جتنا کہ تم اس سورج سے آگ کا ایک شعلہ روشن کرنے پر قدرت رکھتے ہو۔“ تب ابوطالب نے قریش سے کہا: ”میرے بھتیجے نے ہم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا، لہٰذا تم لوگ واپس چلے جاؤ۔“
یہ سند حسن ہے۔