المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأصهار والأختان رضي اللَّهُ عنهم باب: سسرالی رشتہ داروں اور دامادوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3987
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا عَمَّارُ بْنُ سَيْفٍ الضَّبِّيُّ ، وَصِيُّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، أَوْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَأَلْتُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي وَلَا أُزَوِّجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ فَأَعْطَانِي ذَلِكَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے یہ التجا کی کہ میں اپنی امت میں سے جس خاندان میں خود نکاح کروں یا اپنی امت میں سے جس کسی کا نکاح (اپنے اہل خانہ سے) کروں، وہ لازماً جنت میں میرے ساتھ ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرمائی اور مجھے یہ شرف عطا کر دیا۔“
اس روایت کو امام حارث نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں اسحاق بن بشر الکاہلی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور کذاب راوی ہے، لہذا یہ روایت سندا باطل اور من گھڑت ہے۔