المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأصهار والأختان رضي اللَّهُ عنهم باب: سسرالی رشتہ داروں اور دامادوں کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3988
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا جَرْوَلُ بْنُ جَنْدَلٍ ، ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ بْنِ مَرْزُوقٍ أَوِ ابْنِ رِزْقٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَزِيمَةٌ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيَّ - أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ وَلَا أُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِي إِلَّا كَانُوا رُفَقَائِي فِي الْجَنَّةِ .ترجمہ
ابو عبد اللہ بن مرزوق یا ابنِ رزق سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے رب عزوجل کی طرف سے یہ ایک حتمی فیصلہ ہے اور ایک ایسا پختہ عہد ہے جو اس نے مجھ سے کر رکھا ہے کہ میں جس خاندان میں بھی نکاح کروں یا اپنی صاحبزادیوں میں سے کسی کا نکاح (جس سے بھی) کروں، وہ سب جنت میں میرے رفقاء ہوں گے۔“
اس حدیث کو امام طبرانی نے المعجم الکبیر (4004) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی جرول بن جندل کے تفرد کی وجہ سے محدثین نے اس کی استنادی حیثیت پر کلام کیا ہے۔