کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَا مِنْ مَوْتَةٍ أَمُوتُهَا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُقْتَلَ مَظْلُومًا .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے نزدیک ایسی کوئی بھی موت نہیں ہے جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو کہ میں مظلومیت کی حالت میں (ناحق) قتل کر دیا جاؤں۔“
امام طیالسی رحمہ اللہ نے اس اثر کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
امام طیالسی رحمہ اللہ نے اس اثر کو اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا شَيْخٌ لَنَا ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اتَّقُوا دَعْوَةَ سَعْدٍ .
ترجمہ
سیدہ عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کی (بد) دعا سے بچو (اور انہیں ناراض کرنے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ مستجاب الدعوات ہیں)۔“
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عبد العزیز بن ابان نامی راوی متروک الحدیث ہے اور اس میں ایک گمنام و مبہم راوی ”شیخ لنا“ کے الفاظ سے موجود ہے، جس کے باعث یہ روایت سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔
اس حدیث کو امام حارث نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں عبد العزیز بن ابان نامی راوی متروک الحدیث ہے اور اس میں ایک گمنام و مبہم راوی ”شیخ لنا“ کے الفاظ سے موجود ہے، جس کے باعث یہ روایت سندی اعتبار سے ضعیف ہے۔