المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب المناقب— مناقب و فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الأصهار والأختان رضي اللَّهُ عنهم باب: سسرالی رشتہ داروں اور دامادوں کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ عُمَرُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ - قَالَ : أَلَا تُهَنُّونِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَيْرَ سَبَبِي وَنَسَبِي .
3989 \ 2 - قَالَ : وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُرْوَةَ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ ، فَقَالَ : أَلَا تُهَنُّونِي ؟ قَالُوا : وَمَا ذَاكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَزَوَّجْتُ أُمَّ كُلْثُومٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِفَاطِمَةَ ، وَلِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ .. فَذَكَرَهُ ، قَالَ : فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .امام جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما سے نکاح کیا تو لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دیتے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن ہر سبب (تعلق و واسطہ) اور ہر نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے سبب اور میرے نسب کے۔““
امام ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اہل صفہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دو گے؟“ انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! وہ کس لیے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ (کی نواسی) اور سیدنا علی و سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا ہے، اور بلا شبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے...“ پھر انہوں نے وہی حدیث ذکر کی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پس میں نے یہ پسند کیا کہ میرا بھی (آپ ﷺ سے ایسا ہی قلبی و نسبی) تعلق قائم ہو جائے۔“
یہ روایت منقطع ہے۔