قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلا قَالَ : بَيِّنْهُ بَيَانًا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا﴾ [سورة المزمل: 4] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”اس (قرآن مجید) کی تلاوت کے دوران اسے خوب واضح اور نتھار کر بیان کیا کرو۔“
اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ موجود ہیں جو صدوق ہیں مگر سوءِ حفظ (حافظے کی کمزوری) کا شکار تھے۔
اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ موجود ہیں جو صدوق ہیں مگر سوءِ حفظ (حافظے کی کمزوری) کا شکار تھے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : ( إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَصْوَبُ قِيلًا ) ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّمَا نَقْرَؤُهَا : وَأَقْوَمُ قِيلًا ، فَقَالَ : إِنَّ أَقْوَمَ ، وَأَصْوَبَ ، وَأَهْيَأَ ، وَأَشْبَاهَ هَذَا وَاحِدٌ .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ آیتِ کریمہ ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَصْوَبُ قِيلًا﴾ [سورة المزمل: 6] تلاوت فرمائی، تو ایک شخص نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو اسے ”وَأَقْوَمُ قِيلًا“ کے طور پر پڑھتے ہیں، جس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک «أَقْوَمَ»، «أَصْوَبَ»، «أَهْيَأَ» اور اس جیسے دیگر تمام الفاظ کا معنی و مفہوم ایک ہی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلا - لَمْ يَكُنْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ " .
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب یہ آیتِ مبارکہ ﴿وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا﴾ [سورة المزمل: 11] یعنی ”اور (اے نبی ﷺ!) آپ مجھے اور ان جھٹلانے والے خوشحال و آسودہ حال لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دیجیے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دیجیے“ نازل ہوئی تو اس کے بعد صرف تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ معرکہِ بدر برپا ہو گیا۔“
[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3770، امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے]
[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3770، امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے]