❮
❯
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : بَيْنَمَا ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - جَالِسًا فِي حَوْضِ زَمْزَمَ ، وَالنَّاسُ يَسْأَلُونَهُ ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ، فَسَأَلَهُ عَنْ : وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ فَسَكَتَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فَلَمَّا ثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ - أَوْ نَادَى الْمُنَادِي - قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ : اللَّيْلِ إِذَا أَدْبَرَ ؟ قَالَ : قَدْ دَبَرَ اللَّيْلُ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ چاہِ زمزم کے پاس تشریف فرما تھے اور لوگ ان سے علمی سوالات پوچھ رہے تھے کہ اسی اثنا میں ایک شخص آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَاللَّيْلِ إِذْ أَدْبَرَ﴾ [سورة المدثر: 33] کے متعلق دریافت کیا، جس پر آپ رضی اللہ عنہ خاموش رہے۔ پھر جب مؤذن نے نماز کی پکار بلند کی یا منادی نے آواز دی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا أَدْبَرَ﴾ کے متعلق سوال کیا تھا؟“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی مراد واضح کرتے ہوئے فرمایا: ”رات پیٹھ پھیر کر رخصت ہو گئی ہے۔“
امام مسدد رحمہ اللہ نے اپنی سند سے اس واقعے کو روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3771
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح موقوف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا ابْنُ صَمْعَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ حَبِيبَةَ - أَوْ أُمِّ حَبِيبَةَ - ، قَالَتْ : كُنَّا فِي بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، أَطْفَالٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، إِلَّا جِيءَ بِهِمْ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُمُ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ فَعَقَّبَ ، قَالَ : نَفَعَتِ الْآبَاءَ شَفَاعَةُ أَوْلَادِهِمْ .
ترجمہ
حبیبہ یا ام حبیبہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود تھیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”جن مسلمان والدین کے تین ایسے بچے فوت ہو جائیں جو ابھی گناہ کی عمر کو نہ پہنچے ہوں، ان بچوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جنت کے دروازے پر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر ان سے کہا جائے گا: تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت فرمایا: ﴿فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ﴾ [سورة المدثر: 48] ”پس انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ نہ دے گی۔“ راوی نے وضاحت کی کہ یہاں بچوں کی شفاعت نے ان کے والدین کو فائدہ پہنچایا۔
امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ نے اسے اپنی سند سے روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»