المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُزَّمِّلِ باب: سورہ المزمل۔
حدیث نمبر: 3769
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ : ( إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَصْوَبُ قِيلًا ) ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّمَا نَقْرَؤُهَا : وَأَقْوَمُ قِيلًا ، فَقَالَ : إِنَّ أَقْوَمَ ، وَأَصْوَبَ ، وَأَهْيَأَ ، وَأَشْبَاهَ هَذَا وَاحِدٌ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ آیتِ کریمہ ﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَصْوَبُ قِيلًا﴾ [سورة المزمل: 6] تلاوت فرمائی، تو ایک شخص نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو اسے ”وَأَقْوَمُ قِيلًا“ کے طور پر پڑھتے ہیں، جس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک «أَقْوَمَ»، «أَصْوَبَ»، «أَهْيَأَ» اور اس جیسے دیگر تمام الفاظ کا معنی و مفہوم ایک ہی ہے۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔