المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْجِنِّ باب: سورۂ جن۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ غَيْلَانَ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : حُدِّثْتُ أَنَّكَ كُنْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ ؟ فَقَالَ : أَجَلْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ - يَعْنِي نَحْوَ حَدِيثِ عَلْقَمَةَ - وَقَالَ : خَطَّ عَلَيَّ خَطًّا ، وَقَالَ : لَا تَبْرَحْ فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لِي : لَوْ خَرَجْتَ مِنَ الْخَطِّ لَمْ آمَنْ أَنْ يَتَخَطَّفَكَ بَعْضُهُمْ ، وَقَالَ : إِنَّ الْجِنَّ تَشَاجَرُوا فِي قَتِيلٍ بَيْنَهُمْ ، فَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ .
وَقَالَ : رَأَيْتُهُمْ مُسْتَثْفِرِينَ بِثِيَابِ بَعْضٍ وَقَالَ : هُمْ جِنُّ نَصِيبِينَ سَأَلُوهُ الزَّادَ .
3767 \ 2 - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظِبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَانْطَلَقَ بِي مَعَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْبَرَازِ ، ثُمَّ خَطَّ لِي خِطَّةً ، فَقَالَ : لَا تَبْرَحْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ ، فَمَا جَاءَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَ السَّحَرُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُرْسِلْتُ إِلَى الْجِنِّ ، فَقُلْتُ : فَمَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ الَّتِي أَسْمَعُهَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ أَصْوَاتُهُمْ حِينَ وَدَّعُونِي ، وَسَلَّمُوا عَلَيَّ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن غیلان ثقفی نے ان سے دریافت کیا: کیا مجھے یہ جو خبر دی گئی ہے کہ آپ جنات والی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، وہ درست ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں!“ پھر انہوں نے مکمل قصہ بیان کیا اور کہا: ”نبی کریم ﷺ نے میرے گرد ایک لکیر (حصار) کھینچی اور مجھ سے فرمایا: ”تم یہاں سے ہرگز نہ ہلنا۔“ پھر جب آپ ﷺ (جنات سے فارغ ہو کر) واپس تشریف لائے تو مجھ سے فرمایا: ”اگر تم اس لکیر سے باہر نکل جاتے تو مجھے اندیشہ تھا کہ ان میں سے کوئی تمہیں اچک کر لے جاتا۔“ آپ ﷺ نے مزید بتایا: ”جنات کا آپس میں ایک مقتول کے معاملے میں جھگڑا ہو گیا تھا، چنانچہ ان کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے ان جنات کو دیکھا کہ وہ «مُسْتَثْفِرِينَ بِثِيَابِ بَعْضٍ» ”اپنے کپڑوں کو (پنڈلیوں یا جسم پر) کس کر لپیٹے ہوئے تھے“۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نصیبین کے جنات تھے، جنہوں نے مجھ سے زادِ راہ (خوراک) کا سوال کیا تھا۔“
نیز سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ (ایک رات) تشریف لے گئے اور مجھے بھی اپنے ہمراہ لے لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ ایک کھلے میدان میں پہنچے، پھر آپ ﷺ نے میرے گرد ایک لکیر کھینچی اور حکم دیا: ”جب تک میں تمہارے پاس واپس نہ آ جاؤں، تم یہاں سے بالکل نہ ہلنا۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ سحری کے وقت تک واپس نہ آئے، پھر جب آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھے جنات کی طرف (تبلیغ کے لیے) بھیجا گیا تھا۔“ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! پھر وہ کیسی آوازیں تھیں جو میں سن رہا تھا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ ان کی آوازیں تھیں جب وہ مجھے الوداع کہہ رہے تھے اور مجھ پر سلامتی بھیج رہے تھے۔“