المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمُزَّمِّلِ باب: سورہ المزمل۔
حدیث نمبر: 3770
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - ، قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَتْ : وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلا - لَمْ يَكُنْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى كَانَتْ وَقْعَةُ بَدْرٍ " .ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جب یہ آیتِ مبارکہ ﴿وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا﴾ [سورة المزمل: 11] یعنی ”اور (اے نبی ﷺ!) آپ مجھے اور ان جھٹلانے والے خوشحال و آسودہ حال لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دیجیے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دیجیے“ نازل ہوئی تو اس کے بعد صرف تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ معرکہِ بدر برپا ہو گیا۔“
[المستدرك على الصحيحين للحاكم: 3770، امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اگرچہ انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور امام ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے]