❮
❯
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا شُجَاعٌ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْوَاقِعَةِ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ لَمْ تُصِبْهُ فَاقَةٌ أَبَدًا ، فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَأْمُرُ بَنَاتِهِ بِقِرَاءَتِهَا كُلَّ لَيْلَةٍ .
3742 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُنِيبٍ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى بِهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس نے ہر رات سورہ واقعہ کی تلاوت کی، اسے کبھی بھی فقر و تنگدستی نہیں پہنچے گی“، اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی صاحبزادیوں کو بھی ہر رات اس کی تلاوت کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
اس حدیث کو حارث نے عباس بن فضل، سری بن یحییٰ، شجاع اور ابو ظبیہ کے طریق سے نقل کیا ہے، نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی اسحاق بن ابی اسرائیل، محمد بن منیب عدنی اور سری بن یحییٰ کے واسطے سے انہی سے اس کی تخریج کی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3742
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3742 / 2»
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، ثَنَا نُوحٌ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ قَالَ : الْمَوْزُ .
ترجمہ
امام قتادہ رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشادِ گرامی ﴿وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ﴾ [سورة الواقعة: 29] کی تفسیر کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد کیلے کا درخت ہے۔“
اس اثر کی سند حسن ہے، اسے امام ابن جریر طبری نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے اور اہل لغت و مفسرین کے نزدیک 'طلح' سے مراد ایسا درخت ہے جس کا پھل تہہ بہ تہہ لگا ہو، یعنی کیلا۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3743
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مقطوع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح مقطوع »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا قَالَ : مِنْهُنَّ الثَّيِّبُ ، وَغَيْرُ الثَّيِّبِ .
ترجمہ
سیدنا سلمہ بن یزید الجعفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً * فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا * عُرُبًا أَتْرَابًا﴾ [سورة الواقعة: 35-37] یعنی ”بے شک ہم نے ان (اہلِ جنت کی بیویوں) کو ایک خاص انداز میں (نئے سرے سے) پیدا کیا ہے، پھر ہم نے انہیں کنواریاں بنایا ہے، جو اپنے شوہروں سے بے حد محبت کرنے والیاں اور ان کی ہم عمر ہیں“ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جو (دنیا میں) ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھیں اور وہ بھی جو غیر شادی شدہ تھیں۔“
تخریج: اس حدیث کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3744
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 1403، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6322 / 2»
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمُسَدَّدٌ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الآخِرِينَ قَالَ : كِلْتَاهُمَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
رَوَاهُ الْحَجَّاجُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، مَرْفُوعًا .
3745 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَاقَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَهْتَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ .
ترجمہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ﴾ [سورة الواقعة: 13-14] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ دونوں گروہ (یعنی اگلوں میں سے ایک بڑی جماعت اور پچھلوں میں سے کچھ لوگ) اسی امتِ محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔“
اس روایت کو حجاج نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے علی بن زید سے مرفوعاً (یعنی نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے طور پر) بیان کیا ہے، جبکہ مسدد نے اسے خاقان بن عبداللہ بن الاہتم، انہوں نے علی بن زید، انہوں نے عقبہ بن صہبان اور انہوں نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے اسی مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3745
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف موقوف »
«أخرجه مسند الطيالسي برقم: 927، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3745 / 2»