قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ الْمُقَدَّمِيُّ ، ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ - أَقْبَلَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ : أَيُّ شَيْءٍ أَحْدَثْنَا ؟ أَيُّ شَيْءٍ صَنَعْنَا ؟ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی نازل ہوا: ﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ﴾ [سورة الحديد: 16] یعنی "کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لیے پگھل جائیں اور ان میں خشوع و خضوع پیدا ہو؟" تو (اس پر) ہم ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور (فکر مندی سے) یہ سوال کرنے لگے: "ہم نے ایسا کیا نیا کام کر دیا ہے؟ ہم سے ایسا کیا عمل سرزد ہوا ہے (جس کی بنا پر یہ تنبیہ نازل ہوئی)؟"
امام ابویعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں، نیز امام مسلم نے بھی اس مفہوم کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
امام ابویعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں، نیز امام مسلم نے بھی اس مفہوم کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثِ ابْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ فِي كِتَابِ اللهِ الْآيَةَ ، مَا عَمِلَ بِهَا أَحَدٌ قَبْلِي ، وَلَا عَمِلَ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي ، آيَةُ النَّجْوَى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً - إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : كَانَ عِنْدِي دِينَارٌ بِعْتُهُ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ ، فَنَاجَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكُنْتُ كُلَّمَا نَاجَيْتُهُ قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَايَ دِرْهَمًا ، ثُمَّ نُسِخَتْ ، فَلَمْ يَعْمَلْ بِهَا أَحَدٌ ، فَنَزَلَتْ : أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
3747 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ لَيْثٍ بِهِ .
قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
3747 \ 2 - رَوَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ ، عَنْ لَيْثٍ بِهِ .
قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ایک ایسی آیت موجود ہے جس پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ ہی میرے بعد کوئی اس پر عمل کرے گا، اور وہ سرگوشی سے متعلق یہ آیت ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ [سورة المجادلة: 12] ”اے ایمان والو! جب تم رسول (ﷺ) سے تنہائی میں بات کرنا چاہو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پیش کیا کرو۔““ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے پاس ایک دینار تھا جسے میں نے دس درہموں کے عوض فروخت کر دیا، پھر میں جب بھی نبی کریم ﷺ سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہتا تو اپنی اس گفتگو سے پہلے ایک درہم صدقہ کر دیتا، پھر اس حکم کو منسوخ کر دیا گیا اور میرے علاوہ کسی اور نے اس پر عمل نہیں کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ﴾ [سورة المجادلة: 13] ”کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے صدقات پیش کرو۔““
اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ادریس کے واسطے سے لیث سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں: اسے امام ترمذی نے علی بن علقمہ کے طریق سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ مختلف سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ادریس کے واسطے سے لیث سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں: اسے امام ترمذی نے علی بن علقمہ کے طریق سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے علاوہ مختلف سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔