المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْوَاقِعَةِ باب: سورہ واقعہ۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابًا قَالَ : مِنْهُنَّ الثَّيِّبُ ، وَغَيْرُ الثَّيِّبِ .سیدنا سلمہ بن یزید الجعفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿إِنَّا أَنْشَأْنَاهُنَّ إِنْشَاءً * فَجَعَلْنَاهُنَّ أَبْكَارًا * عُرُبًا أَتْرَابًا﴾ [سورة الواقعة: 35-37] یعنی ”بے شک ہم نے ان (اہلِ جنت کی بیویوں) کو ایک خاص انداز میں (نئے سرے سے) پیدا کیا ہے، پھر ہم نے انہیں کنواریاں بنایا ہے، جو اپنے شوہروں سے بے حد محبت کرنے والیاں اور ان کی ہم عمر ہیں“ کے متعلق یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جو (دنیا میں) ثیبہ (بیوہ یا مطلقہ) تھیں اور وہ بھی جو غیر شادی شدہ تھیں۔“
تخریج: اس حدیث کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔