المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْوَاقِعَةِ باب: سورہ واقعہ۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمُسَدَّدٌ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الآخِرِينَ قَالَ : كِلْتَاهُمَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
رَوَاهُ الْحَجَّاجُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، مَرْفُوعًا .
3745 \ 2 - وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَاقَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَهْتَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ .سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ * وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ﴾ [سورة الواقعة: 13-14] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ دونوں گروہ (یعنی اگلوں میں سے ایک بڑی جماعت اور پچھلوں میں سے کچھ لوگ) اسی امتِ محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔“
اس روایت کو حجاج نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے علی بن زید سے مرفوعاً (یعنی نبی کریم ﷺ کے ارشاد کے طور پر) بیان کیا ہے، جبکہ مسدد نے اسے خاقان بن عبداللہ بن الاہتم، انہوں نے علی بن زید، انہوں نے عقبہ بن صہبان اور انہوں نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم ﷺ سے اسی مفہوم کے ساتھ روایت کیا ہے۔