قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ الْآيَةَ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَيُّ جَمْعٍ يُهْزَمُ ؟ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ ، وَيَقُولُ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ; فَعَرَفْتُ أَنَّهُ هُوَ .
3735 \ 2 - قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ مِثْلَهُ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
3735 \ 2 - قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ مِثْلَهُ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .
ترجمہ
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب یہ آیت مبارکہ ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [سورة القمر: 45] نازل ہوئی، تو میں (حیرت سے) یہ کہتا رہا کہ آخر وہ کون سا جتھا یا لشکر ہے جسے شکست دی جائے گی؟ پھر جب غزوہ بدر کا دن آیا اور میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ زرہ پہنے ہوئے (جوش و خروش میں) کود رہے تھے اور آپ ﷺ کی زبانِ مبارک پر یہی الفاظ جاری تھے: ”عنقریب یہ جتھا مغلوب ہو جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے“؛ تو اس وقت مجھے ادراک ہوا کہ اس آیت کا اصل مصداق یہی دن تھا۔“
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے عکرمہ کے واسطے سے بھی اسی کی مانند روایت بیان کی ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے عکرمہ کے واسطے سے بھی اسی کی مانند روایت بیان کی ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، ثَنَا دَاوُدُ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَلِيِّ ابْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ - قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : مَضَى انْشِقَاقُ الْقَمَرِ بِمَكَّةَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ [سورة القمر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ مکہ مکرمہ میں رونما ہو چکا ہے۔“
اس روایت کی سند میں علی بن عاصم الواسطی ہیں جن کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم انشقاقِ قمر کا واقعہ دیگر صحیح و متواتر احادیث سے مکہ میں پیش آنا ثابت ہے، امام احمد بن منیع نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اس روایت کی سند میں علی بن عاصم الواسطی ہیں جن کے حافظے پر محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم انشقاقِ قمر کا واقعہ دیگر صحیح و متواتر احادیث سے مکہ میں پیش آنا ثابت ہے، امام احمد بن منیع نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
وَبِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ - قَالَ : يَوْمَ بَدْرٍ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [سورة القمر: 45] یعنی ”عنقریب یہ (کفار کا) جتھہ شکست کھا جائے گا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں گے“ کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اس (پیشگوئی کے پورا ہونے) سے مراد غزوہ بدر کا دن ہے“۔
اس حدیث کی تخریج امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح (رقم: 4875) میں فرمائی ہے، جو کہ سنداً صحیح ہے۔
اس حدیث کی تخریج امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح (رقم: 4875) میں فرمائی ہے، جو کہ سنداً صحیح ہے۔
وَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى : فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا قَالَ : يَوْمَ بَدْرٍ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا﴾ [سورة الفرقان: 77] کے متعلق بیان فرمایا کہ ”اس (پکڑ اور عذاب) سے مراد یومِ بدر (جنگِ بدر کا دن) ہے۔“
[صحيح البخاري: 3752]
[صحيح البخاري: 3752]