المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْقَمَرِ باب: سورت القمر۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ الْآيَةَ ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ : أَيُّ جَمْعٍ يُهْزَمُ ؟ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، وَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ ، وَيَقُولُ : سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ; فَعَرَفْتُ أَنَّهُ هُوَ .
3735 \ 2 - قَالَ مَعْمَرٌ : فَأَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ مِثْلَهُ .
هَذَا مُنْقَطِعٌ .سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب یہ آیت مبارکہ ﴿سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ﴾ [سورة القمر: 45] نازل ہوئی، تو میں (حیرت سے) یہ کہتا رہا کہ آخر وہ کون سا جتھا یا لشکر ہے جسے شکست دی جائے گی؟ پھر جب غزوہ بدر کا دن آیا اور میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ زرہ پہنے ہوئے (جوش و خروش میں) کود رہے تھے اور آپ ﷺ کی زبانِ مبارک پر یہی الفاظ جاری تھے: ”عنقریب یہ جتھا مغلوب ہو جائے گا اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے“؛ تو اس وقت مجھے ادراک ہوا کہ اس آیت کا اصل مصداق یہی دن تھا۔“
معمر کہتے ہیں کہ مجھے ایوب نے عکرمہ کے واسطے سے بھی اسی کی مانند روایت بیان کی ہے۔
یہ روایت منقطع ہے۔