قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَافِعٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ ، وَهُوَ شَاهِدٌ : الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلا اللَّمَمَ
قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : هِيَ النَّظْرَةُ وَالْغَمْزَةُ وَالْقُبْلَةُ وَالْمُبَاشَرَةُ ، فَإِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَهُوَ الزِّنَا ، وَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ .
قَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : هِيَ النَّظْرَةُ وَالْغَمْزَةُ وَالْقُبْلَةُ وَالْمُبَاشَرَةُ ، فَإِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَهُوَ الزِّنَا ، وَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ﴾ [سورة النجم: 32] کے متعلق روایت ہے کہ ان سے اس آیتِ کریمہ کے مفہوم کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اس (لَمَم یعنی صغیرہ گناہوں) سے مراد «النَّظْرَةُ» ”نامحرم کو دیکھنا“، «الْغَمْزَةُ» ”آنکھ مارنا یا اشارہ کرنا“، «الْقُبْلَةُ» ”بوسہ لینا“ اور «الْمُبَاشَرَةُ» ”جسم سے جسم مس کرنا یا ہم آغوش ہونا“ ہے، البتہ جب «مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ» ”مرد اور عورت کے اعضائے مخصوصہ ایک دوسرے سے مل جائیں“ تو پھر وہ زنا کہلاتا ہے اور اس صورت میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اور امام بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' میں روایت کیا ہے۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اور امام بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' میں روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَرَأَ النَّجْمَ ، فَسَجَدَ ، ثُمَّ قَامَ ، فَقَرَأَ سُورَةً أُخْرَى .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورہ النجم کی تلاوت فرمائی، تو آپ نے (آیتِ سجدہ پر) سجدہ کیا، پھر آپ دوبارہ قیام کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک دوسری سورت تلاوت فرمائی۔“
اسے امام مالک نے ’المؤطا‘ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
اسے امام مالک نے ’المؤطا‘ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ جُوَيْبِرٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - :
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُهَا حَتَّى اسْتَثْبَتُّهَا ، ثُمَّ حَالَ دُونَهَا فَرَاشُ الذَّهَبِ .
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَأَيْتُهَا حَتَّى اسْتَثْبَتُّهَا ، ثُمَّ حَالَ دُونَهَا فَرَاشُ الذَّهَبِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى﴾ [سورة النجم: 16] کے متعلق روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اسے (سدرۃ المنتہیٰ کو) دیکھا یہاں تک کہ میں نے اسے اچھی طرح پہچان کر ذہن نشین کر لیا، پھر سونے کے پروانے اس کے سامنے حائل ہو کر اسے ڈھانپنے لگے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی جویبر بن سعید سخت ضعیف اور متروک ہے۔
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی جویبر بن سعید سخت ضعیف اور متروک ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا عُبَيْدُ اللهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ ، عَنِ الضَّحَّاكِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ قَالَ : كَانُوا يَمُرُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَامِخِينَ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الْفَحْلِ كَيْفَ يَخْطِرُ شَامِخًا ؟ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ﴾ [سورة النجم: 61] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”وہ (مشرکین) نبی کریم ﷺ کے پاس سے انتہائی تکبر، نخوت اور اپنی گردنیں اکڑا کر گزرا کرتے تھے، کیا تم نے کسی توانا نر اونٹ کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح اپنا سر بلند کیے اور گردن تان کر فخر و غرور کے ساتھ اتراتے ہوئے چلتا ہے؟“
امام حاکم نے اس کی تخریج کی ہے اور یہ اثر صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔
امام حاکم نے اس کی تخریج کی ہے اور یہ اثر صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔