کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کا بیان۔
❮
❯
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : قَالَ أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ : أُوتِيَ يُوسُفُ وَأُمُّهُ ثُلُثَ الْحُسْنِ
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”سیدنا یوسف علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کو (کائنات کے مجموعی) حسن و جمال کا ایک تہائی حصہ عطا کیا گیا تھا۔“
یہ اسناد صحیح ہے اور یہ روایت موقوف ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3451
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ . »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 17882، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8555»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَأَكْرَمَهُ فَقَالَ لَهُ : " ائْتِنَا " . فَأَتَاهُ فَقَالَ : " سَلْ حَاجَتَكَ ؟ " فَقَالَ : نَاقَةٌ يَرْكَبُهَا ، وَأَعْنُزٌ يَحْلُبُهَا أَهْلِي . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ " فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيقَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ : إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللهِ تَعَالَى أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا . قَالَ : فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ فَقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ . قَالَتْ : حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي . قَالَ : مَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ ، فَأَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا . فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ - مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ - فَقَالَتِ : انْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ ، فَنَضَبُوهُ . فَقَالَتِ : احْتَفِرُوا ، فَحَفَرُوا ، وَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الْأَرْضِ إِذَا بِطَرِيقٍ مِثْلِ النَّهَارِ "
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .
ترجمہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا تو آپ ﷺ نے اس کی خاطر تواضع کی اور اس سے ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے پاس آنا۔“ پھر جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنی ضرورت کا سوال کرو۔“ اس نے عرض کیا: مجھے ایک اونٹنی چاہیے جس پر میں سواری کروں اور چند بکریاں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ نے (اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ”کیا تم اس بات سے عاجز آگئے تھے کہ تم بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت کی مانند ہو جاتے؟“ صحابہ کرام نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو وہ راستہ بھٹک گئے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ تو ان کے علماء نے بتایا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت ہم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم مصر سے اس وقت تک ہرگز نہ نکلیں جب تک ان کے جسدِ مبارک کی ہڈیاں اپنے ساتھ منتقل نہ کر لیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: ان کی قبر کا مقام کون جانتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت جانتی ہے۔ آپ نے اسے بلا بھیجا تو وہ حاضر ہوئی، آپ نے اس سے فرمایا: مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔ اس نے عرض کیا: میں نہیں بتاؤں گی جب تک کہ آپ میرا مطالبہ پورا نہ کر دیں۔ آپ نے پوچھا: تمہارا مطالبہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اسے یہ مرتبہ دینا گراں محسوس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اسے اس کا مطلوبہ حق دے دو۔ چنانچہ وہ انہیں ایک جھیل یعنی پانی کے جوہڑ کی جگہ پر لے گئی اور کہا: اس کا پانی خشک کر دو، انہوں نے پانی نکال دیا۔ پھر اس نے کہا: یہاں سے کھدائی کرو، انہوں نے کھدائی کی تو یوسف علیہ السلام کے جسدِ مبارک کی ہڈیاں برآمد کر لیں، پھر جب انہوں نے انہیں زمین سے اوپر اٹھایا تو اچانک ان کے لیے راستہ دن کی طرح روشن اور واضح ہو گیا۔“
ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3452
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا حديث إسناده ضعيف لضعف الرفاعي »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 4142، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17348، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 723، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2001، 6221/1»
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِيَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَحَنَى ظَهْرَكَ ؟ قَالَ : أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ ، وَأَمَّا الَّذِي أَحَنَى ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى أَخِيهِ بِنْيَامِينَ . قَالَ : فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَا يَعْقُوبُ ، أَتَشْكُو اللهَ تَعَالَى ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : اللهُ أَعْلَمُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ ، ثُمَّ انْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَدَخَلَ يَعْقُوبُ إِلَى بَيْتِهِ فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَحَنَيْتَ ظَهْرِي ، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتَيَّ فَأَشُمُّهُمَا شَمَّةً ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ مَا شِئْتَ . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَقَالَ : يَا يَعْقُوبُ ، إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّهُمَا لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ ، وَلَأَقْرَرْتُ بِهِمَا عَيْنَيْكَ ، وَيَقُولُ لَكَ : يَا يَعْقُوبُ ، أَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ وَحَنَيْتُ ظَهْرَكَ ؟ وَلِمَ فَعَلَ إِخْوَةُ يُوسُفَ مَا فَعَلُوا ؟ قَالَ : لِأَنَّهُ أَتَاكَ يَتِيمٌ مِسْكِينٌ وَهُوَ صَائِمٌ جَائِعٌ ، وَقَدْ ذَبَحْتَ أَنْتَ وَأَهْلُكَ شَاةً فَأَكَلْتُمُوهَا وَلَمْ تُطْعِمُوهُ . وَيَقُولُ : إِنِّي لَمْ أُحِبَّ مِنْ خَلْقِي شَيْئًا حُبِّي الْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ " .
قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَانَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كُلَّمَا أَمْسَى نَادَى مُنَادِيهِ : مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَحْضُرْ طَعَامَ يَعْقُوبَ ، وَإِذَا أَصْبَحَ نَادَى مُنَادِيهِ : مَنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَحْضُرْ طَعَامَ يَعْقُوبَ " .
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”ایک شخص نے سیدنا یعقوب علیہ السلام سے دریافت کیا: کس چیز نے آپ کی بینائی ختم کر دی اور آپ کی کمر جھکا دی؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک میری بینائی کے جانے کا تعلق ہے تو وہ یوسف (علیہ السلام) کے غم میں کثرتِ گریہ کی وجہ سے ہے، اور میری کمر کے جھکنے کا سبب ان کے بھائی بن یامین کا دکھ اور حزن ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر جبریل علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے اور کہا: اے یعقوب! کیا آپ اللہ تعالیٰ کی شکایت کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة يوسف: 86] ”میں تو اپنی بے قراری اور غم کی فریاد صرف اللہ ہی سے کرتا ہوں۔“ تب جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کی کہی ہوئی بات کی حقیقت کو آپ سے بھی بڑھ کر جانتا ہے، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے گئے اور یعقوب علیہ السلام اپنے گھر میں داخل ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں التجا کی: «أَيْ رَبِّ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَحَنَيْتَ ظَهْرِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتَيَّ فَأَشُمُّهُمَا شَمَّةً، ثُمَّ اصْنَعْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ مَا شِئْتَ» ”اے میرے رب! تو نے میری بصارت چھین لی اور میری کمر جھکا دی، پس تو میرے ان دونوں مہکتے پھولوں (بیٹوں) کو مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں انہیں جی بھر کر ایک بار سونگھ لوں، پھر اس کے بعد تو میرے ساتھ جو چاہے معاملہ فرمانا۔“ تب جبریل علیہ السلام دوبارہ حاضر ہوئے اور کہا: اے یعقوب! اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کو خوشخبری ہو، کیونکہ اگر وہ دونوں فوت بھی ہو چکے ہوتے تو میں آپ کی خاطر انہیں دوبارہ زندہ کر دیتا تاکہ میں ان کے ذریعے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاؤں، اور اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے: اے یعقوب! کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی بینائی کیوں سلب کی اور آپ کی پیٹھ کیوں جھکائی؟ اور یوسف کے بھائیوں نے وہ سب کیوں کیا جو انہوں نے کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک مسکین یتیم آیا تھا جو روزے سے اور سخت بھوکا تھا، اور اس وقت آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے بکری ذبح کر کے کھا لی تھی لیکن اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔ اور اللہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی بھی صنف سے اتنی محبت نہیں جتنی یتیموں اور مسکینوں سے ہے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس واقعے کے بعد سیدنا یعقوب علیہ السلام کا یہ معمول بن گیا تھا کہ جب بھی شام ہوتی تو ان کا منادی پکارتا کہ جو کوئی روزے سے ہے وہ یعقوب کے دسترخوان پر طعام کے لیے حاضر ہو جائے، اور جب صبح ہوتی تو ان کا منادی پکارتا کہ جس نے روزہ نہیں رکھا وہ یعقوب کے کھانے پر پہنچ جائے۔“
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف جدًا واه بمره أبان متروك »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 3381، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6101، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 824، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11089، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6522»