المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات و احادیث کا بیان۔
بَابُ يعقوب ويوسف عليهما الصَّلَاةِ والسلام باب: حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہما السلام کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَأَكْرَمَهُ فَقَالَ لَهُ : " ائْتِنَا " . فَأَتَاهُ فَقَالَ : " سَلْ حَاجَتَكَ ؟ " فَقَالَ : نَاقَةٌ يَرْكَبُهَا ، وَأَعْنُزٌ يَحْلُبُهَا أَهْلِي . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ " فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيقَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ : إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللهِ تَعَالَى أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا . قَالَ : فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قَبْرِهِ ؟ قَالَ : عَجُوزٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا فَأَتَتْهُ فَقَالَ : دُلِّينِي عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ . قَالَتْ : حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي . قَالَ : مَا حُكْمُكِ ؟ قَالَتْ : أَكُونُ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ ، فَكَرِهَ أَنْ يُعْطِيَهَا ذَلِكَ ، فَأَوْحَى اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِهَا حُكْمَهَا . فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ - مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ - فَقَالَتِ : انْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ ، فَنَضَبُوهُ . فَقَالَتِ : احْتَفِرُوا ، فَحَفَرُوا ، وَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَلَمَّا أَقَلُّوهَا إِلَى الْأَرْضِ إِذَا بِطَرِيقٍ مِثْلِ النَّهَارِ "
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ .سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا تو آپ ﷺ نے اس کی خاطر تواضع کی اور اس سے ارشاد فرمایا: ”تم ہمارے پاس آنا۔“ پھر جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنی ضرورت کا سوال کرو۔“ اس نے عرض کیا: مجھے ایک اونٹنی چاہیے جس پر میں سواری کروں اور چند بکریاں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ نے (اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر) فرمایا: ”کیا تم اس بات سے عاجز آگئے تھے کہ تم بنی اسرائیل کی اس بوڑھی عورت کی مانند ہو جاتے؟“ صحابہ کرام نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے روانہ ہوئے تو وہ راستہ بھٹک گئے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ تو ان کے علماء نے بتایا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت ہم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر یہ پختہ عہد لیا تھا کہ ہم مصر سے اس وقت تک ہرگز نہ نکلیں جب تک ان کے جسدِ مبارک کی ہڈیاں اپنے ساتھ منتقل نہ کر لیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: ان کی قبر کا مقام کون جانتا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت جانتی ہے۔ آپ نے اسے بلا بھیجا تو وہ حاضر ہوئی، آپ نے اس سے فرمایا: مجھے یوسف علیہ السلام کی قبر کا پتہ بتاؤ۔ اس نے عرض کیا: میں نہیں بتاؤں گی جب تک کہ آپ میرا مطالبہ پورا نہ کر دیں۔ آپ نے پوچھا: تمہارا مطالبہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اسے یہ مرتبہ دینا گراں محسوس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اسے اس کا مطلوبہ حق دے دو۔ چنانچہ وہ انہیں ایک جھیل یعنی پانی کے جوہڑ کی جگہ پر لے گئی اور کہا: اس کا پانی خشک کر دو، انہوں نے پانی نکال دیا۔ پھر اس نے کہا: یہاں سے کھدائی کرو، انہوں نے کھدائی کی تو یوسف علیہ السلام کے جسدِ مبارک کی ہڈیاں برآمد کر لیں، پھر جب انہوں نے انہیں زمین سے اوپر اٹھایا تو اچانک ان کے لیے راستہ دن کی طرح روشن اور واضح ہو گیا۔“
ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔