❮
❯
حدیث نمبر: 3453
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، رَفَعَهُ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِيَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : مَا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرَكَ وَحَنَى ظَهْرَكَ ؟ قَالَ : أَمَّا الَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي فَالْبُكَاءُ عَلَى يُوسُفَ ، وَأَمَّا الَّذِي أَحَنَى ظَهْرِي فَالْحُزْنُ عَلَى أَخِيهِ بِنْيَامِينَ . قَالَ : فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَا يَعْقُوبُ ، أَتَشْكُو اللهَ تَعَالَى ؟ فَقَالَ : إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللهِ . فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : اللهُ أَعْلَمُ بِمَا قُلْتَ مِنْكَ ، ثُمَّ انْطَلَقَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَدَخَلَ يَعْقُوبُ إِلَى بَيْتِهِ فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَحَنَيْتَ ظَهْرِي ، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتَيَّ فَأَشُمُّهُمَا شَمَّةً ، ثُمَّ اصْنَعْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ مَا شِئْتَ . فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَقَالَ : يَا يَعْقُوبُ ، إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّهُمَا لَوْ كَانَا مَيِّتَيْنِ لَنَشَرْتُهُمَا لَكَ ، وَلَأَقْرَرْتُ بِهِمَا عَيْنَيْكَ ، وَيَقُولُ لَكَ : يَا يَعْقُوبُ ، أَتَدْرِي لِمَ أَذْهَبْتُ بَصَرَكَ وَحَنَيْتُ ظَهْرَكَ ؟ وَلِمَ فَعَلَ إِخْوَةُ يُوسُفَ مَا فَعَلُوا ؟ قَالَ : لِأَنَّهُ أَتَاكَ يَتِيمٌ مِسْكِينٌ وَهُوَ صَائِمٌ جَائِعٌ ، وَقَدْ ذَبَحْتَ أَنْتَ وَأَهْلُكَ شَاةً فَأَكَلْتُمُوهَا وَلَمْ تُطْعِمُوهُ . وَيَقُولُ : إِنِّي لَمْ أُحِبَّ مِنْ خَلْقِي شَيْئًا حُبِّي الْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ " .
قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَكَانَ يَعْقُوبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كُلَّمَا أَمْسَى نَادَى مُنَادِيهِ : مَنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَحْضُرْ طَعَامَ يَعْقُوبَ ، وَإِذَا أَصْبَحَ نَادَى مُنَادِيهِ : مَنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَحْضُرْ طَعَامَ يَعْقُوبَ " .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”ایک شخص نے سیدنا یعقوب علیہ السلام سے دریافت کیا: کس چیز نے آپ کی بینائی ختم کر دی اور آپ کی کمر جھکا دی؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک میری بینائی کے جانے کا تعلق ہے تو وہ یوسف (علیہ السلام) کے غم میں کثرتِ گریہ کی وجہ سے ہے، اور میری کمر کے جھکنے کا سبب ان کے بھائی بن یامین کا دکھ اور حزن ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ اس پر جبریل علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے اور کہا: اے یعقوب! کیا آپ اللہ تعالیٰ کی شکایت کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة يوسف: 86] ”میں تو اپنی بے قراری اور غم کی فریاد صرف اللہ ہی سے کرتا ہوں۔“ تب جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ آپ کی کہی ہوئی بات کی حقیقت کو آپ سے بھی بڑھ کر جانتا ہے، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے گئے اور یعقوب علیہ السلام اپنے گھر میں داخل ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں التجا کی: «أَيْ رَبِّ، أَذْهَبْتَ بَصَرِي وَحَنَيْتَ ظَهْرِي، فَارْدُدْ عَلَيَّ رَيْحَانَتَيَّ فَأَشُمُّهُمَا شَمَّةً، ثُمَّ اصْنَعْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ مَا شِئْتَ» ”اے میرے رب! تو نے میری بصارت چھین لی اور میری کمر جھکا دی، پس تو میرے ان دونوں مہکتے پھولوں (بیٹوں) کو مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں انہیں جی بھر کر ایک بار سونگھ لوں، پھر اس کے بعد تو میرے ساتھ جو چاہے معاملہ فرمانا۔“ تب جبریل علیہ السلام دوبارہ حاضر ہوئے اور کہا: اے یعقوب! اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ آپ کو خوشخبری ہو، کیونکہ اگر وہ دونوں فوت بھی ہو چکے ہوتے تو میں آپ کی خاطر انہیں دوبارہ زندہ کر دیتا تاکہ میں ان کے ذریعے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاؤں، اور اللہ تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے: اے یعقوب! کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کی بینائی کیوں سلب کی اور آپ کی پیٹھ کیوں جھکائی؟ اور یوسف کے بھائیوں نے وہ سب کیوں کیا جو انہوں نے کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک مسکین یتیم آیا تھا جو روزے سے اور سخت بھوکا تھا، اور اس وقت آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے بکری ذبح کر کے کھا لی تھی لیکن اسے کھانا نہیں کھلایا تھا۔ اور اللہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنی مخلوق میں سے کسی بھی صنف سے اتنی محبت نہیں جتنی یتیموں اور مسکینوں سے ہے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس واقعے کے بعد سیدنا یعقوب علیہ السلام کا یہ معمول بن گیا تھا کہ جب بھی شام ہوتی تو ان کا منادی پکارتا کہ جو کوئی روزے سے ہے وہ یعقوب کے دسترخوان پر طعام کے لیے حاضر ہو جائے، اور جب صبح ہوتی تو ان کا منادی پکارتا کہ جس نے روزہ نہیں رکھا وہ یعقوب کے کھانے پر پہنچ جائے۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد ضعيف جدًا واه بمره أبان متروك »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 3381، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6101، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 824، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 11089، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6522»