❮
❯
حدیث نمبر: 3450
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثَنَا سَعِيدُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمُ .
3450 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ ، قَالُوا : ثَنَا سَعِيدٌ ، ثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ فِي بَلَائِهِ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً ، فَرَفَضَهُ الْقَرِيبُ وَالْبَعِيدُ ، إِلَّا رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ ، زَادَ الْبَزَّارُ : كَانَا مِنْ أَخَصِّ إِخْوَانِهِ ، كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوحَانِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : تَعْلَمُ ، وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوبُ ذَنْبًا مَا أَذْنَبَهُ أَحَدٌ . قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانَ عَشْرَةَ سَنَةً لَمْ يَرْحَمْهُ اللهُ تَعَالَى . فَكَشَفَ عَنْهُ مَا بِهِ ، فَلَمَّا رَاحَا إِلَيْهِ لَمْ يَصْبِرِ الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ أَيُّوبُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : لَا أَدْرِي مَا تَقُولُ ، غَيْرَ أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أَمُرُّ بِالرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ ، فَيَذْكُرَانِ اللهَ تَعَالَى فَأَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَأُكَفِّرُ عَنْهُمَا كَرَاهِيَةَ أَنْ يُذْكَرَ اللهُ تَعَالَى إِلَّا فِي حَقٍّ . قَالَ : وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسَكَتِ امْرَأَتُهُ بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ . فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا ، وَأَوْحَى إِلَى أَيُّوبَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي مَكَانِهِ ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ فَاسْتَبْطَأَتْهُ ، فَتَلَفَّتَتْ تَنْظُرُ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا وَقَدْ أَذْهَبَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا بِهِ مِنَ الْبَلَاءِ وَهُوَ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ : أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ ، هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا الْمُبْتَلَى ، وَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ بِهِ مِنْكَ مُذْ كَانَ صَحِيحًا . قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : فَإِنِّي أَنَا هُوَ ، وَكَانَ لَهُ أَنْدَرَانِ : أَنْدَرُ الْقَمْحِ ، وَأَنْدَرُ الشَّعِيرِ ، فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى سَحَابَتَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى أَنْدَرِ الْقَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيهِ الذَّهَبَ حَتَّى فَاضَ ، وَأَفْرَغَتِ الْأُخْرَى عَلَى أَنْدَرِ الشَّعِيرِ الْوَرِقَ حَتَّى فَاضَ
قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا عَقِيلٌ ، وَلَا عَنْهُ إِلَّا نَافِعٌ
صَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ .
ترجمہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام اٹھارہ سال تک آزمائش میں مبتلا رہے، جس کی وجہ سے قریبی اور دور کے تمام لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا، سوائے ان کے بھائیوں (قریبی دوستوں) میں سے دو شخصوں کے۔“ (امام بزار نے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ”وہ دونوں ان کے خاص ترین دوستوں میں سے تھے، جو صبح و شام ان کی عیادت کے لیے آتے جاتے تھے“)۔ ”ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اللہ کی قسم! تم جانتے ہو کہ ایوب علیہ السلام سے ضرور کوئی ایسا گناہ سرزد ہوا ہے جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے پوچھا: وہ کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا: اٹھارہ سال بیت گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم نہیں فرمایا (اور انہیں شفا نہیں دی)۔ پھر جب وہ دونوں ان کے پاس گئے تو وہ شخص ضبط نہ کر سکا اور ایوب علیہ السلام سے اس بات کا ذکر کر دیا۔ ایوب علیہ السلام نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہے ہو، البتہ اللہ تبارک و تعالی خوب جانتا ہے کہ میرا یہ معمول تھا کہ جب میں دو آدمیوں کے پاس سے گزرتا اور وہ (جھگڑا کرتے ہوئے) اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے (قسمیں کھاتے) تو میں اپنے گھر واپس جا کر ان دونوں کی طرف سے کفارہ ادا کر دیتا تھا، کیونکہ میں اس بات کو ناپسند کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر حق کے سوا کسی اور حال میں کیا جائے۔ آپ علیہ السلام اپنی قضاۓ حاجت کے لیے (باہر) تشریف لے جایا کرتے تھے، اور جب فارغ ہو جاتے تو آپ کی اہلیہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر (گھر تک) لاتی تھیں۔ ایک دن آپ کو دیر ہو گئی اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: ﴿ارْكُضْ بِرِجْلِكَ هَذَا مُغْتَسَلٌ بَارِدٌ وَشَرَابٌ﴾ [سورة ص: 42] ”اپنا پاؤں (زمین پر) ماریئے، یہ نہانے کے لیے ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کے لیے (مشروب) ہے۔“ جب آپ کو آنے میں دیر ہوئی تو آپ کی اہلیہ فکر مند ہو کر آپ کو دیکھنے کے لیے مڑیں، تو دیکھا کہ آپ ان کی طرف چلے آ رہے ہیں اور اللہ تبارک و تعالی نے ان کی تمام بیماری دور کر دی تھی اور وہ اپنی بہترین حالت میں تھے، جیسا کہ وہ تندرستی کے زمانے میں ہوا کرتے تھے۔ جب ان کی اہلیہ نے آپ کو دیکھا تو (پہچان نہ سکیں اور) کہنے لگیں: «أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيكَ» ”اللہ تم میں برکت عطا فرمائے!“ کیا تم نے اللہ کے اس نبی کو دیکھا ہے جو آزمائش میں مبتلا تھے؟ اللہ کی قسم! جب وہ تندرست تھے تو میں نے ان کے مشابہ تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں وہی (ایوب) ہوں۔ آپ علیہ السلام کے پاس غلے کے دو کھلیان تھے: ایک گندم کا اور دوسرا جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے، جب ان میں سے ایک گندم کے کھلیان پر پہنچا تو اس نے اس میں سونا انڈیل دیا یہاں تک کہ وہ بھر کر بہنے لگا، اور دوسرے بادل نے جو کے کھلیان میں چاندی انڈیل دی یہاں تک کہ وہ بھی بھر کر لبریز ہو گیا۔“
امام بزار فرماتے ہیں کہ عقیل کے علاوہ کسی نے اسے زہری سے اور نافع کے علاوہ کسی نے عقیل سے روایت نہیں کیا۔ اسے امام ابن حبان نے ابن وہب کے واسطے سے نافع بن یزید سے صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب أحاديث الأنبياء عليهم الصلاة والسلام / حدیث: 3450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد أبي يعلى ضعيف جدًا لضعف حميد »
«أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 4171، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 40، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 13799، 13800، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 2898، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 2616، 2617، وأخرجه البحر الزخار المعروف بمسند البزار 10 - 18 برقم: 6333، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 4593، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6527/1»