قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : ثَمَنُ الْجَنَّةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .
هَذَا مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ .
ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جنت کی قیمت «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ ہے۔“
یہ روایت موقوف اور صحیح ہے۔
یہ روایت موقوف اور صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الذِّمَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رُمَّانَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ : قِيلَ لِوَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ : أَلَيْسَ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ مِفْتَاحٍ إِلَّا وَلَهُ أَسْنَانٌ ، فَمَنْ أَتَى الْبَابَ بِأَسْنَانِهِ ، فُتِحَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الْبَابَ بِأَسْنَانِهِ ، لَمْ يُفْتَحْ لَهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَوْقُوفٌ ، وَقَدْ عَلَّقَهُ الْبُخَارِيُّ لِوَهْبٍ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَوْقُوفٌ ، وَقَدْ عَلَّقَهُ الْبُخَارِيُّ لِوَهْبٍ .
ترجمہ
احمد بن سعید بن رومانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: ”کیا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ جنت کی چابی نہیں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں! کیوں نہیں، یہ بالکل درست ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی چابی نہیں ہوتی جس کے دندانے نہ ہوں، چنانچہ جو شخص (جنت کے) دروازے پر ایسی چابی کے ساتھ حاضر ہو گا جس کے دندانے ہوں گے تو اس کے لیے وہ دروازہ کھول دیا جائے گا، لیکن جو شخص ایسی چابی لے کر آئے گا جس کے دندانے نہیں ہوں گے تو اس کے لیے وہ دروازہ نہیں کھولا جائے گا۔“
یہ سند حسن موقوف ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے معلقاً روایت کیا ہے۔
یہ سند حسن موقوف ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے معلقاً روایت کیا ہے۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ أَيْضًا : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : الْإِيمَانُ قَائِدٌ ، ( وَالْعَمَلُ ) سَائِقٌ ، وَالنَّفْسُ حَرُونٌ بَيْنَهُمَا ، فَإِذَا قَادَ الْقَائِدُ ، وَلَمْ يَسُقِ السَّائِقُ ، لَمْ يُغْنِ ذَلِكَ شَيْئًا ، وَإِذَا سَاقَ السَّائِقُ وَتَبِعَتْهَا النَّفْسُ طَوْعًا ، أَوْ كَرْهًا .
ترجمہ
امام اسحاق بن راہویہ، وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”ایمان (آگے سے رہنمائی کرنے والا) قائد ہے اور عمل (پیچھے سے ہنکانے والا) سائق ہے، جبکہ نفس ان دونوں کے درمیان ایک اڑیل جانور کی مانند ہے؛ چنانچہ جب قائد رہنمائی تو کرے مگر سائق پیچھے سے نہ ہنکائے تو یہ عمل ذرا بھی فائدہ نہیں دیتا، اور جب سائق پیچھے سے ہنکاتا ہے تو نفس خوشی سے یا مجبوری کی حالت میں اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (2894) میں موجود ہے، اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں اور یہ جلیل القدر تابعی وہب بن منبہ کا قول (اثر مقطوع) ہے۔
تخریج و تحکیم: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (2894) میں موجود ہے، اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں اور یہ جلیل القدر تابعی وہب بن منبہ کا قول (اثر مقطوع) ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِ ، قَالَ : عَنْ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ كَانُوا يَخْدُمُونَ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ لَمَّا حُضِرَ ، قُلْتُ لَهُ : أَلَا أُرَاكَ قَدْ حُضِرْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَسَاءَ حِينُ الْكَذِبِ هَذَا ، مَنْ مَاتَ وَهُوَ مُوقِنٌ بِثَلَاثَةٍ : يَعْلَمُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى حَقٌّ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ قَائِمَةٌ ، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، قَالَ : فَقَالَ قَوْلًا رَغَّبَ لَهُمْ فِيهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ : إِلَّا غُفِرَ لَهُ ، فَلَا أَدْرِي .
ترجمہ
ابن الدیلمی ان تین افراد میں سے ایک سے روایت کرتے ہیں جو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتے تھے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے ان سے عرض کیا: ”کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ آپ کا آخری وقت آ پہنچا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، اور یہ جھوٹ بولنے کے لیے کتنا برا وقت ہے، (سنو!) جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ تین باتوں پر پختہ یقین رکھتا ہو: وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے، اور یہ کہ قیامت قائم ہو کر رہے گی، اور اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ زندہ فرمائے گا جو قبروں میں ہیں،“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر انہوں نے کوئی ایسی بات ارشاد فرمائی جس سے انہیں (نیکی کی) رغبت دلائی، اگر وہ الفاظ ”تو اسے ضرور بخش دیا جائے گا“ نہیں تھے تو پھر مجھے (صحیح الفاظ کا) علم نہیں۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم (صحابی کا خادم) ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کا مفہوم درست اور ثابت ہے۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم (صحابی کا خادم) ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کا مفہوم درست اور ثابت ہے۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى مَغْفِرَةِ الذُّنُوبِ ، غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي ، مَا لَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ”تم میں سے جو شخص بھی اس بات کا علم و یقین رکھے کہ میں گناہوں کو معاف کرنے کی کامل قدرت رکھتا ہوں، تو میں اسے بخش دوں گا اور مجھے اس کی ذرہ برابر پروا نہیں ہوگی، جب تک کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“
اس روایت کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن حکم بن ابان نامی راوی ضعیف ہے۔
اس روایت کو امام عبد بن حمید نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن حکم بن ابان نامی راوی ضعیف ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ يَكُنَّ فِيهِ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ لَهُ مَا سِوَى ذَلِكَ لِمَنْ شَاءَ : مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا ، وَلَمْ يَكُنْ سَاحِرًا يَتَّبِعُ السَّحَرَةَ ، وَلَمْ يَحْقِدْ عَلَى أَخِيهِ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین اوصاف ایسے ہیں کہ جس شخص میں وہ موجود نہ ہوں تو اللہ عزوجل ان کے علاوہ (بقیہ گناہوں) کو جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا: (اول) وہ شخص جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، (دوم) وہ جادوگر نہ ہو اور نہ ہی جادوگروں کے پیچھے چلنے والا ہو، اور (سوم) وہ اپنے بھائی کے خلاف دل میں کینہ و بغض نہ رکھتا ہو۔“
[تخريج: مسند البزار: 4945، المعجم الكبير للطبراني: 12151، مجمع الزوائد: 8/187، قال الهيثمي: ليث بن أبي سليم مدلس وبقية رجاله ثقات]
[تخريج: مسند البزار: 4945، المعجم الكبير للطبراني: 12151، مجمع الزوائد: 8/187، قال الهيثمي: ليث بن أبي سليم مدلس وبقية رجاله ثقات]