المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2892–2897) باب: (احادیث 2892 تا 2897)
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِ ، قَالَ : عَنْ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ كَانُوا يَخْدُمُونَ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَنَّهُ لَمَّا حُضِرَ ، قُلْتُ لَهُ : أَلَا أُرَاكَ قَدْ حُضِرْتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَسَاءَ حِينُ الْكَذِبِ هَذَا ، مَنْ مَاتَ وَهُوَ مُوقِنٌ بِثَلَاثَةٍ : يَعْلَمُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى حَقٌّ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ قَائِمَةٌ ، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ، قَالَ : فَقَالَ قَوْلًا رَغَّبَ لَهُمْ فِيهِ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ : إِلَّا غُفِرَ لَهُ ، فَلَا أَدْرِي .ابن الدیلمی ان تین افراد میں سے ایک سے روایت کرتے ہیں جو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتے تھے کہ جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے ان سے عرض کیا: ”کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ آپ کا آخری وقت آ پہنچا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، اور یہ جھوٹ بولنے کے لیے کتنا برا وقت ہے، (سنو!) جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ تین باتوں پر پختہ یقین رکھتا ہو: وہ یہ جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے، اور یہ کہ قیامت قائم ہو کر رہے گی، اور اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ زندہ فرمائے گا جو قبروں میں ہیں،“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر انہوں نے کوئی ایسی بات ارشاد فرمائی جس سے انہیں (نیکی کی) رغبت دلائی، اگر وہ الفاظ ”تو اسے ضرور بخش دیا جائے گا“ نہیں تھے تو پھر مجھے (صحیح الفاظ کا) علم نہیں۔
اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم (صحابی کا خادم) ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کا مفہوم درست اور ثابت ہے۔