المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2892–2897) باب: (احادیث 2892 تا 2897)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الذِّمَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رُمَّانَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ : قِيلَ لِوَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ : أَلَيْسَ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ قَالَ : بَلَى ، وَلَكِنْ لَيْسَ مِنْ مِفْتَاحٍ إِلَّا وَلَهُ أَسْنَانٌ ، فَمَنْ أَتَى الْبَابَ بِأَسْنَانِهِ ، فُتِحَ لَهُ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الْبَابَ بِأَسْنَانِهِ ، لَمْ يُفْتَحْ لَهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مَوْقُوفٌ ، وَقَدْ عَلَّقَهُ الْبُخَارِيُّ لِوَهْبٍ .احمد بن سعید بن رومانہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: ”کیا «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ جنت کی چابی نہیں ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں! کیوں نہیں، یہ بالکل درست ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی چابی نہیں ہوتی جس کے دندانے نہ ہوں، چنانچہ جو شخص (جنت کے) دروازے پر ایسی چابی کے ساتھ حاضر ہو گا جس کے دندانے ہوں گے تو اس کے لیے وہ دروازہ کھول دیا جائے گا، لیکن جو شخص ایسی چابی لے کر آئے گا جس کے دندانے نہیں ہوں گے تو اس کے لیے وہ دروازہ نہیں کھولا جائے گا۔“
یہ سند حسن موقوف ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے امام وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے معلقاً روایت کیا ہے۔