المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2892–2897) باب: (احادیث 2892 تا 2897)
حدیث نمبر: 2894
وَقَالَ إِسْحَاقُ أَيْضًا : أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْحَلَبِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : الْإِيمَانُ قَائِدٌ ، ( وَالْعَمَلُ ) سَائِقٌ ، وَالنَّفْسُ حَرُونٌ بَيْنَهُمَا ، فَإِذَا قَادَ الْقَائِدُ ، وَلَمْ يَسُقِ السَّائِقُ ، لَمْ يُغْنِ ذَلِكَ شَيْئًا ، وَإِذَا سَاقَ السَّائِقُ وَتَبِعَتْهَا النَّفْسُ طَوْعًا ، أَوْ كَرْهًا .ترجمہ
امام اسحاق بن راہویہ، وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”ایمان (آگے سے رہنمائی کرنے والا) قائد ہے اور عمل (پیچھے سے ہنکانے والا) سائق ہے، جبکہ نفس ان دونوں کے درمیان ایک اڑیل جانور کی مانند ہے؛ چنانچہ جب قائد رہنمائی تو کرے مگر سائق پیچھے سے نہ ہنکائے تو یہ عمل ذرا بھی فائدہ نہیں دیتا، اور جب سائق پیچھے سے ہنکاتا ہے تو نفس خوشی سے یا مجبوری کی حالت میں اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔“
تخریج و تحکیم: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (2894) میں موجود ہے، اس کی سند کے رجال ثقہ ہیں اور یہ جلیل القدر تابعی وہب بن منبہ کا قول (اثر مقطوع) ہے۔