المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2892–2897) باب: (احادیث 2892 تا 2897)
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ثَلَاثٌ مَنْ لَمْ يَكُنَّ فِيهِ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ لَهُ مَا سِوَى ذَلِكَ لِمَنْ شَاءَ : مَنْ مَاتَ وَلَمْ يُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا ، وَلَمْ يَكُنْ سَاحِرًا يَتَّبِعُ السَّحَرَةَ ، وَلَمْ يَحْقِدْ عَلَى أَخِيهِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین اوصاف ایسے ہیں کہ جس شخص میں وہ موجود نہ ہوں تو اللہ عزوجل ان کے علاوہ (بقیہ گناہوں) کو جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا: (اول) وہ شخص جو اس حال میں فوت ہوا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، (دوم) وہ جادوگر نہ ہو اور نہ ہی جادوگروں کے پیچھے چلنے والا ہو، اور (سوم) وہ اپنے بھائی کے خلاف دل میں کینہ و بغض نہ رکھتا ہو۔“
[تخريج: مسند البزار: 4945، المعجم الكبير للطبراني: 12151، مجمع الزوائد: 8/187، قال الهيثمي: ليث بن أبي سليم مدلس وبقية رجاله ثقات]