کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: اعمال کی قبولیت کے لیے اسلام کے شرط ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَفُكُّ الْعُنَاةَ ، - تَعْنِي : الْأَسْرَى - وَلَوْ أَدْرَكَ لَأَسْلَمَ ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَمَّكِ كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَذِكْرِهَا وَجَمَالِهَا ، وَمَا قَالَ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ .
2871 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ .
2871 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ .
ترجمہ
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بے شک ہشام بن مغیرہ (لوگوں کو) کھانا کھلایا کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا، صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا تھا اور قیدیوں کو چھڑایا کرتا تھا—ان کی مراد جنگی قیدی تھے—اور اگر وہ آپ کا زمانہ پاتا تو ضرور اسلام لے آتا، تو کیا اسے ان نیک اعمال کا کچھ اجر ملے گا؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے چچا کے ان اعمال کا مقصد دنیا، اس کی شہرت اور زیب و زینت کا حصول تھا، اور اس نے کبھی ایک دن بھی یہ دعا نہیں مانگی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ» ”اے میرے رب! جزا و سزا کے دن میری خطا کو معاف فرما دے۔““
امام ابو یعلیٰ نے بھی ابو خیثمہ، جریر، منصور اور مجاہد کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے بھی ابو خیثمہ، جریر، منصور اور مجاہد کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : يَأْتِي الْإِسْلَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنْتَ الْإِسْلَامُ ، وَأَنَا السَّلَامُ ، الْيَوْمَ بِكَ أُعْطِي ، وَبِكَ آخُذُ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ منورہ میں مقیم تھے تو انہوں نے بیان فرمایا: ”قیامت کے دن اسلام (مجسم ہو کر) حاضر ہوگا، تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ”تو اسلام ہے اور میں سلام (سراپا سلامتی) ہوں، آج کے دن میں تیرے ہی سبب (بندوں کو اجر و ثواب) عطا کروں گا اور تیرے ہی سبب (ان کی) پکڑ کروں گا۔““
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حسن بصری کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت منقطع اور ضعیف ہے۔
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حسن بصری کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت منقطع اور ضعیف ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ السَّكْسَكِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : يَا حَارِثُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ ؟ قَالَ : أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرْ مَا تَقُولُ ، إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ حَقِيقَةً ، فَمَا حَقِيقَتُكَ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَلَسْتُ قَدْ عَزَفَتِ الدُّنْيَا عَنْ نَفْسِي ، وَأَظْمَأْتُ نَهَارِي ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلِي ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا ، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَضَاغَوْنَ فِيهَا ، يَعْنِي : يَصِيحُونَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَارِثُ ، عَرَفْتَ فَالْزَمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
ترجمہ
سیدنا حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”اے حارث! تم نے صبح کس حال میں کی؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں سچا مومن بن چکا ہوں۔“ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ذرا دیکھو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، پس تمہارے اس ایمان کی کیا حقیقت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے اپنے نفس کو دنیا سے بیزار کر لیا ہے، میں اپنے دن کو (روزے کی وجہ سے) پیاسا رکھتا ہوں اور اپنی رات کو (عبادت الٰہی میں) بیدار رکھتا ہوں، گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنے سامنے بالکل عیاں دیکھ رہا ہوں، اور گویا میں اہل جنت کو ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اور گویا میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ وہاں (تکلیف کی شدت سے) چیخ و پکار کر رہے ہیں۔“ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”اے حارث! تم نے (حقیقت کو) پہچان لیا ہے، پس اب اسی پر ثابت قدم رہنا۔“
یہ روایت مسند مسدد کی ہے جس کی تخریج امام ابن حجر نے المطالب العالیہ (2873) میں کی ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ کی موجودگی کی وجہ سے کلام ہے، تاہم دیگر طرق اور شواہد سے اس کے معنی و مفہوم کو تقویت حاصل ہے۔
یہ روایت مسند مسدد کی ہے جس کی تخریج امام ابن حجر نے المطالب العالیہ (2873) میں کی ہے، اس کی سند میں ابن لہیعہ کی موجودگی کی وجہ سے کلام ہے، تاہم دیگر طرق اور شواہد سے اس کے معنی و مفہوم کو تقویت حاصل ہے۔