❮
❯
حدیث نمبر: 2871
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَفُكُّ الْعُنَاةَ ، - تَعْنِي : الْأَسْرَى - وَلَوْ أَدْرَكَ لَأَسْلَمَ ، فَهَلْ لَهُ فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ ؟ قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ عَمَّكِ كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَذِكْرِهَا وَجَمَالِهَا ، وَمَا قَالَ يَوْمًا : رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ .
2871 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ .
ترجمہ

ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بے شک ہشام بن مغیرہ (لوگوں کو) کھانا کھلایا کرتا تھا، مہمان نوازی کرتا تھا، صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتا تھا اور قیدیوں کو چھڑایا کرتا تھا—ان کی مراد جنگی قیدی تھے—اور اگر وہ آپ کا زمانہ پاتا تو ضرور اسلام لے آتا، تو کیا اسے ان نیک اعمال کا کچھ اجر ملے گا؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے چچا کے ان اعمال کا مقصد دنیا، اس کی شہرت اور زیب و زینت کا حصول تھا، اور اس نے کبھی ایک دن بھی یہ دعا نہیں مانگی تھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ» ”اے میرے رب! جزا و سزا کے دن میری خطا کو معاف فرما دے۔““
امام ابو یعلیٰ نے بھی ابو خیثمہ، جریر، منصور اور مجاہد کے واسطے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مثل روایت نقل کی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الإيمان والتوحيد / حدیث: 2871
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 465، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 120/1»