المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الإيمان والتوحيد— ایمان اور توحید کے مسائل کا بیان۔
بَابُ الإسلام شرط فِي قَبُولِ العمل باب: اعمال کی قبولیت کے لیے اسلام کے شرط ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2872
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : يَأْتِي الْإِسْلَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنْتَ الْإِسْلَامُ ، وَأَنَا السَّلَامُ ، الْيَوْمَ بِكَ أُعْطِي ، وَبِكَ آخُذُ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ منورہ میں مقیم تھے تو انہوں نے بیان فرمایا: ”قیامت کے دن اسلام (مجسم ہو کر) حاضر ہوگا، تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ”تو اسلام ہے اور میں سلام (سراپا سلامتی) ہوں، آج کے دن میں تیرے ہی سبب (بندوں کو اجر و ثواب) عطا کروں گا اور تیرے ہی سبب (ان کی) پکڑ کروں گا۔““
اس حدیث کو امام ابوداؤد نے کتاب الزہد میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں حسن بصری کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت منقطع اور ضعیف ہے۔